السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: من رأى في الخيل صدقة. باب: ان ائمہ کا بیان جو گھوڑوں میں زکوٰۃ واجب ہونے کے قائل ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عُمَرَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ، أَنَّ حِيَّ بْنَ يَعْلَى أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ يَعْلَى قَالَ: ابْتَاعَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أُمَيَّةَ أَخُو يَعْلَى مِنْ رَجُلٍ فَرَسًا أُنْثَى بِمِائَةِ قَلُوصٍ فَبَدَا لَهُ فَنَدِمَ الْبَائِعُ، فَأَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّ يَعْلَى وَأَخَاهُ غَصَبَانِي فَرَسِي، فَكَتَبَ عُمَرُ إِلَى يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ " أَنِ الْحَقْ بِي "، فَأَتَاهُ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: " إِنَّ الْخَيْلَ لَتَبْلُغُ هَذَا عِنْدَكُمْ "، قَالَ: مَا عَلِمْتُ فَرَسًا قَبْلَ هَذِهِ بَلَغَ هَذَا، فَقَالَ عُمَرُ: " فَنَأْخُذُ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةً، وَلَا نَأْخُذُ مِنَ الْخَيْلِ شَيْئًا، خُذْ مِنْ كُلِّ فَرَسٍ دِينَارًا "، قَالَ: فَضَرَبَ عَلَى الْخَيْلِ دِينَارًا دِينَارًا. وَقَدْ رُوِّينَا فِي الْبَابِ قَبْلَهُ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنَّمَا أَمَرَ بِذَلِكَ حِينَ أَحَبَّهُ أَرْبَابُهَا، وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ إِنْ صَحَّتْ تَكُونُ مَحْمُولَةً عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ لَا تَتَّفِقُ الرِّوَايَاتُ وَلَا تَخْتَلِفُ، وَحَدِيثُ عِرَاكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَصَحُّ مَا رُوِيَ فِي ذَلِكَ وَهُوَ يَقْطَعُ بِنَفْيِ الصَّدَقَةِ عَنْهَا وَاللهُ أَعْلَمُ.یعلیٰ کہتے ہیں کہ عبدالرحمن بن امیہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے سو اونٹنیوں (قلوص) کے عوض گھوڑی خریدی۔ پھر اس پر کوئی بات واضح ہوئی تو بیچنے والا پریشان ہوا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ یعلیٰ اور ان کے بھائی نے میری گھوڑی چھین لی ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یعلیٰ کی طرف خط لکھا کہ تم مجھ سے ملاقات کرو۔ وہ آئے اور آنے کی خبر دی تو انہوں نے کہا: تمہارے پاس گھوڑے اس مقدار کو پہنچ چکے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا کہ وہ گھوڑے اس سے پہلے پہنچے ہیں یا نہیں۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم تو ہر چالیس بکریوں میں سے ایک بکری لیں گے اور گھوڑے سے کچھ بھی نہیں لیں گے، لہٰذا تم ہر گھوڑے سے ایک دینار وصول کرو، تو انہوں نے ایک گھوڑے پر ایک دینار مقرر کر دیا۔
اور اس بات میں ہم نے اس سے پہلے بیان کیا جس پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا حکم دیا جب اس کے مالکوں نے پسند کیا۔ اگر یہ روایت صحیح ہے تو اسے ایسی روایات پر محمول کیا جائے گا کیونکہ روایات جو اس سے متعلق ہیں وہ مختلف نہیں، اور جو عراک کی حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہے وہ بھی صحیح ہے، جو ان سے بیان کی گئی ہے وہ زکاۃ کی نفی کی وجہ سے مقطوع ہے۔