السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الاختيار في دفعها إلى الوالي. باب: زکوٰۃ حاکمِ وقت کے سپرد کرنے کے اختیار کا بیان۔
حدیث نمبر: 7384
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَسَنُ بْنُ سَعْدٍ الْجُهَنِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ عَنِ الزَّكَاةِ، فَقَالَ: سَمِعْتَ بِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: " كَانَ يَدْفَعُهَا إِلَيْهِمْ يَعْنِي السُّلْطَانَ فِي الْفِتْنَةِ يَقْضَمُونَ بِهَا دَوَابَّهُمْ ".حافظ ثناء اللہ
حسن بن سعد جہنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے زید بن اسلم رحمہ اللہ سے زکوۃ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: کیا تم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں سنا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: وہ فتنے کے دور میں زکوۃ انہیں یعنی سلطان کو دیا کرتے تھے، جس سے وہ اپنے چوپایوں کو چارہ کھلاتے تھے۔