حدیث نمبر: 7380
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْدَلَانِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي هُنَيْدٌ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ وَكَانَ عَلَى أَمْوَالِهِ بِالطَّائِفِ قَالَ: قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: " كَيْفَ تَصْنَعُ فِي صَدَقَةِ أَمْوَالِي؟ " قَالَ: مِنْهَا مَا أَدْفَعُهَا إِلَى السُّلْطَانِ وَمِنْهَا مَا أَتَصَدَّقُ بِهَا فَقَالَ: مَا لَكَ وَمَا لِذَلِكَ؟ قَالَ: إِنَّهُمْ يَشْتَرُونَ بِهَا الْبِزُوزَ وَيَتَزَوَّجُونَ بِهَا النِّسَاءَ وَيَشْتَرُونَ بِهَا الْأَرَضِينَ، قَالَ: " فَادْفَعْهَا إِلَيْهِمْ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا أَنْ نَدْفَعَهَا إِلَيْهِمْ وَعَلَيْهِمْ حِسَابُهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے غلام فرماتے ہیں کہ وہ طائف میں ان کے اموال پر نگران تھے، وہ فرماتے ہیں کہ مجھے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو میرے مال کی زکوٰۃ کا کیا کرتا ہے؟ تو اس نے کہا: اس میں سے کچھ سلطان (بادشاہ) کو دے دیتا ہوں اور کچھ اس میں سے صدقہ کر دیتا ہوں، انہوں نے کہا: وہ اس کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟ تو اس نے کہا: وہ اس کے عوض پارچہ جات لیتے ہیں جن کے ساتھ وہ عورتوں سے نکاح کرتے ہیں اور اس کے ساتھ زمین بھی حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: اسے ان کو واپس لوٹا دو، بیشک نبی کریم ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ”ہم وہ انہیں لوٹا دیں اور ان کا حساب انہی پر ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7380
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»