السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: من تجب عليه الصدقة باب: اس شخص کا بیان جس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے
حدیث نمبر: 7337
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ ⦗١٧٩⦘ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، وَمَالِكٌ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ يَحْيَى الْمَازِنِيَّ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ "، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَدَلَّ قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنَّ خَمْسَ ذَوْدٍ وَخَمْسَ أَوَاقٍ وَخَمْسَةَ أَوْسُقٍ إِذَا كَانَ وَاحِدٌ مِنْهَا لِحُرٍّ مُسْلِمٍ فَفِيهِ الصَّدَقَةُ فِي الْمَالِ نَفْسِهِ لَا فِي الْمَالِكِ؛ لِأَنَّ الْمَالِكَ لَوْ أَعْوَزَ مِنْهَا لَمْ تَكُنْ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں اور پانچ وسق سے کم کھجوروں میں بھی زکوٰۃ نہیں اور پانچ اونٹ سے کم میں بھی زکوٰۃ نہیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ ﷺ کا فرمان اس پر دلالت کرتا ہے کہ پانچ اونٹ، پانچ اوقیہ چاندی یا پانچ وسق کھجوریں، ان میں سے ایک چیز آزاد مسلمان کے پاس ہوگی تو اس کے مال میں زکوٰۃ ہوگی، جو اس کا ذاتی مال ہوگا مگر مالک کے مال میں، کیونکہ مالک اگر محتاج ہو تو اس پر زکوٰۃ نہیں۔