السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: صدقة الخلطاء باب: شرکاء (اکٹھے مال رکھنے والوں) کی زکوٰۃ کا بیان
حدیث نمبر: 7336
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَطَاءً عَنِ النَّفَرِ الْخُلَطَاءِ لَهُمْ أَرْبَعُونَ شَاةً، قَالَ: " عَلَيْهِمْ شَاةٌ "، قُلْتُ: فَإِنْ كَانَتْ لِوَاحِدٍ تِسْعٌ وَثَلَاثُونَ وَلِآخَرَ شَاةٌ قَالَ: " عَلَيْهِمَا شَاةٌ ".حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عطا رحمہ اللہ سے اس ریوڑ کے بارے میں پوچھا جس میں مشترکہ چالیس بکریاں ہوں تو انہوں نے کہا: اس میں ایک بکری ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اگر ایک کی انتالیس ہوں اور ایک کی ایک بکری تو انہوں نے کہا: ان پر ایک ہی بکری ہے۔