السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما ورد فيمن كتمه باب: اس شخص کے بارے میں وارد شدہ وعید کا بیان جس نے اسے (زکوٰۃ کو) چھپایا
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ مِنَ الْإِبِلِ السَّائِمَةِ ابْنَةُ لَبُونٍ، مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا فَلَهُ أَجْرُهَا وَمَنْ كَتَمَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ إِبِلِهِ عَزِيمَةً مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّكَ، لَا يَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ " كَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ وَقَالَ أَكْثَرُهُمْ: عَزْمَةٌ مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا. أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَا يُثْبِتُ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ أَنْ تُؤْخَذَ الصَّدَقَةُ وَشَطْرُ إِبِلِ الْغَالِّ لِصَدَقَتِهِ وَلَوْ ثَبَتَ قُلْنَا بِهِ. قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا حَدِيثٌ قَدْ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، فَأَمَّا الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ رَحِمَهُمَا اللهُ فَإِنَّهُمَا لَمْ يُخْرِجَاهُ جَرْيًا عَلَى عَادَتِهِمَا فِي أَنَّ الصَّحَابِيَّ أَوِ التَّابِعِيَّ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ إِلَّا رَاوٍ وَاحِدٌ لَمْ يُخْرِجَا حَدِيثَهَ فِي الصَّحِيحَيْنِ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيُّ لَمْ يَثْبُتْ عِنْدَهُمَا رِوَايَةٌ ثِقَةٌ عَنْهُ غَيْرُ ابْنِهِ فَلَمْ يُخَرِّجَا حَدِيثَهُ فِي الصَّحِيحِ وَاللهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ كَانَ تَضْعِيفُ الْغَرَامَةِ عَلَى مَنْ سَرَقَ فِي ابْتِدَاءِ الِاسْلَامِ ثُمَّ صَارَ مَنْسُوخًا، وَاسْتَدَلَّ الشَّافِعِيُّ عَلَى نَسْخِهِ بِحَدِيثِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ فِيمَا أَفْسَدَتْ نَاقَتُهُ فَلَمْ يُنْقَلْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تِلْكَ الْقِصَّةِ أَنَّهُ أَضْعَفَ الْغَرَامَةَ بَلْ نَقَلَ فِيهَا حُكْمَهُ بِالضَّمَانِ فَقَطْ، فَيُحْتَمَلَ أَنْ يَكُونَ هَذَا مِنْ ذَاكَ وَاللهُ أَعْلَمُ.بہز بن حکیم بن معاویہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں اور وہ اپنے دادا سے، وہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”چرنے والے چالیس اونٹوں میں بنت لبون ہے، جس نے اجر کے حصول کے لیے دیا اسے اجر ملے گا اور جس نے اسے چھپایا، میں اس سے وہ (زکوٰۃ) لینے والا ہوں اور اس کے اونٹوں کا ایک حصہ بھی، یہ اللہ تعالیٰ کے فرائض میں سے ایک فریضہ ہے جو محمد ﷺ اور آلِ محمد کے لیے جائز نہیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ ایسے اونٹوں میں سے بھی زکوٰۃ لی جائے جن کے کچھ اونٹ خیانت (چوری) کے ہوں۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث ابو داؤد نے نقل کی ہے جبکہ بخاری و مسلم نے کڑی شرائط کی بنا پر نقل نہیں کیا۔ ان کے نزدیک ایسی روایت ثبوت کو نہیں پہنچتی۔ شروع اسلام میں چٹی کے طور پر زکوٰۃ کی زیادہ وصولی کی جاتی، جب اس نے چوری کی ہو۔ پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا تو امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کے منسوخ ہونے پر سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی حدیث سے استدلال کیا ہے جس میں اونٹنیاں بیمار ہو گئیں۔ یہ بات نبی ﷺ سے منقول نہیں کہ اس سے چٹی کے طور زیادہ وصول کیا، بلکہ اس میں جو حکم بیان ہوا وہ ضمانت کے طور پر ہے۔ ہو سکتا ہے یہ ان کی اپنی رائے ہو۔