❮
❯
حدیث نمبر: 7328
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ مِنَ الْإِبِلِ السَّائِمَةِ ابْنَةُ لَبُونٍ، مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا فَلَهُ أَجْرُهَا وَمَنْ كَتَمَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ إِبِلِهِ عَزِيمَةً مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّكَ، لَا يَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ " كَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ وَقَالَ أَكْثَرُهُمْ: عَزْمَةٌ مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا. أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَا يُثْبِتُ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ أَنْ تُؤْخَذَ الصَّدَقَةُ وَشَطْرُ إِبِلِ الْغَالِّ لِصَدَقَتِهِ وَلَوْ ثَبَتَ قُلْنَا بِهِ. قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا حَدِيثٌ قَدْ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، فَأَمَّا الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ رَحِمَهُمَا اللهُ فَإِنَّهُمَا لَمْ يُخْرِجَاهُ جَرْيًا عَلَى عَادَتِهِمَا فِي أَنَّ الصَّحَابِيَّ أَوِ التَّابِعِيَّ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ إِلَّا رَاوٍ وَاحِدٌ لَمْ يُخْرِجَا حَدِيثَهَ فِي الصَّحِيحَيْنِ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيُّ لَمْ يَثْبُتْ عِنْدَهُمَا رِوَايَةٌ ثِقَةٌ عَنْهُ غَيْرُ ابْنِهِ فَلَمْ يُخَرِّجَا حَدِيثَهُ فِي الصَّحِيحِ وَاللهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ كَانَ تَضْعِيفُ الْغَرَامَةِ عَلَى مَنْ سَرَقَ فِي ابْتِدَاءِ الِاسْلَامِ ثُمَّ صَارَ مَنْسُوخًا، وَاسْتَدَلَّ الشَّافِعِيُّ عَلَى نَسْخِهِ بِحَدِيثِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ فِيمَا أَفْسَدَتْ نَاقَتُهُ فَلَمْ يُنْقَلْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تِلْكَ الْقِصَّةِ أَنَّهُ أَضْعَفَ الْغَرَامَةَ بَلْ نَقَلَ فِيهَا حُكْمَهُ بِالضَّمَانِ فَقَطْ، فَيُحْتَمَلَ أَنْ يَكُونَ هَذَا مِنْ ذَاكَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

بہز بن حکیم بن معاویہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں اور وہ اپنے دادا سے، وہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”چرنے والے چالیس اونٹوں میں بنت لبون ہے، جس نے اجر کے حصول کے لیے دیا اسے اجر ملے گا اور جس نے اسے چھپایا، میں اس سے وہ (زکوٰۃ) لینے والا ہوں اور اس کے اونٹوں کا ایک حصہ بھی، یہ اللہ تعالیٰ کے فرائض میں سے ایک فریضہ ہے جو محمد ﷺ اور آلِ محمد کے لیے جائز نہیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل علم بالحدیث یہ ثابت نہیں مانتے کہ زکوٰۃ چھپانے والے سے زکوٰۃ اور اس کے آدھے اونٹ لیے جائیں، اگر یہ ثابت ہوتا تو ہم اسی کے قائل ہوتے۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث ابو داؤد نے نقل کی ہے جبکہ بخاری و مسلم نے اسے اپنے اس طریقے کی بنا پر نقل نہیں کیا کہ جس صحابی یا تابعی سے صرف ایک ہی راوی روایت کرے اس کی حدیث وہ صحیحین میں نہیں لاتے، اور معاویہ بن حیدہ قشیری سے ان کے بیٹے کے سوا کسی ثقہ راوی کی روایت ان کے نزدیک ثابت نہیں۔ شروع اسلام میں چوری کرنے والے پر دگنی چٹی ڈالی جاتی تھی، پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کے منسوخ ہونے پر سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے جس میں ان کی اونٹنی نے نقصان کیا تھا۔ اس واقعے میں نبی ﷺ سے یہ منقول نہیں کہ آپ نے دگنی چٹی ڈالی ہو، بلکہ اس میں صرف ضمان (نقصان کی ادائیگی) کا حکم منقول ہے، تو ممکن ہے کہ یہ (حدیث) بھی اسی قبیل سے ہو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7328
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه أبو داؤد»