السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: لا يؤخذ كرائم أموال الناس باب: لوگوں کے عمدہ ترین مال (زکوٰۃ میں) نہ لیے جائیں
حدیث نمبر: 7309
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلَانِ مِنْ أَشْجَعَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّ، كَانَ يَأْتِيهِمْ مُصَدِّقًا فَيَقُولُ لِرَبِّ الْمَالِ: " أَخْرِجْ إِلَيَّ صَدَقَةَ مَالِكَ " فَلَا يَقُودُ إِلَيْهِ شَاةً فِيهَا وَفَاءً مِنْ حِقِّهِ إِلَّا قَبِلَهَا قَالَ مَالِكٌ: السُّنَّةُ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَا يُضَيَّقُ عَلَى النَّاسِ فِي زَكَاتِهِمْ وَأَنْ يُقْبَلَ مِنْهُمْ مَا دَفَعُوا مِنْ زَكَاةِ أَمْوَالِهِمْ قَالَ الشَّيْخُ: إِذَا كَانَ فِيمَا دَفَعُوا وَفَاءٌ مِنَ الْحَقِّ كَمَا رَوَاهُ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ.حافظ ثناء اللہ
محمد بن یحییٰ بن حبان فرماتے ہیں کہ مجھے دو آدمیوں نے خبر دی جو اشجع قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس عامل کی حیثیت سے آئے تھے اور وہ صاحبِ مال سے کہنے لگے: اپنے مال کی زکوٰۃ نکالو، تو وہ جو بھی بکری زکوٰۃ میں لاتے تو وہ اسے قبول کر لیتے۔ مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ زکوٰۃ وصول کرنے میں لوگوں کو تنگ نہ کریں اور یہ ان سے قبول کریں جو وہ زکوٰۃ میں ادا کریں۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جب کہ زکوٰۃ پوری پوری ہو جو اس پر واجب ہو جیسا کہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بیان ہو چکا۔