السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب طهارة جلد ما يؤكل لحمه إذا كان ذكيا باب: حلال گوشت والے جانور کا چمڑا پاک ہونے کا بیان جب اسے شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہو
حدیث نمبر: 73
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَأَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، قَالُوا: ثنا مُرْوانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، أنبأ هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ الْجُهَنِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، قَالَ هِلَالٌ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ. وَقَالَ أَيُّوبُ، وَعُمَرُ، وَأُرَاهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِغُلَامٍ يَسْلُخُ شَاةً، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَنَحَّ حَتَّى أُرِيَكَ ". فَأَدْخَلَ يَدَهُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ فَدَحَسَ بِهَا حَتَّى تَوَارَتْ إِلَى الْإِبْطِ، ثُمَّ مَضَى، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: زَادَ عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ: يَعْنِي لَمْ يَمَسَّ مَاءً. وَقَالَ عَنْ هِلَالِ بْنِ مَيْمُونٍ الرَّمْلِيِّ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِلَالٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا. لَمْ يَذْكُرْ أَبَا سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک بچے کے پاس سے گزرے جو بکری کو کھینچ کر لے جا رہا تھا، آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”ٹھہر جا میں تمہیں (کچھ) دکھاتا ہوں“ پھر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ کھال اور گوشت کے درمیان داخل کیا، آپ ﷺ نے ہاتھ اتنا گھسایا کہ وہ پیٹ میں چھپ گیا، پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی لیکن وضو نہیں کیا۔
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عمرو نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ پانی کو نہیں چھوا۔
(ج) حضرت عطاء رحمہ اللہ بھی نبی ﷺ سے یہ روایت مرسل بیان کرتے ہیں، سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کا واسطہ ذکر نہیں کرتے۔