حدیث نمبر: 7279
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصَدِّقًا، فَمَرَرْتُ بِرَجُلٍ فَجَمَعَ لِي مَالَهُ فَلَمْ أَجِدْ عَلَيْهِ فِيهَا إِلَّا ابْنَةَ مَخَاضٍ، فَقُلْتُ لَهُ: أَدِّ ابْنَةَ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا صَدَقَتُكَ، فَقَالَ: ذَاكَ مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرَ، وَلَكِنْ هَذِهِ نَاقَةٌ عَظِيمَةٌ سَمِينَةٌ فَخُذْهَا فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِآخِذٍ مَا لَمْ أُومَرْ بِهِ، وَهَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكَ قَرِيبٌ فَإِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَأْتِيَهُ فَتَعْرِضَ عَلَيْهِ مَا عَرَضْتَ عَلَيَّ فَافْعَلْ فَإِنْ قَبِلَهُ مِنْكَ قَبِلْتُهُ وَإِنْ رَدَّهُ عَلَيْكَ رَدَدْتُهُ، قَالَ: فَإِنِّي فَاعِلٌ قَالَ: فَخَرَجَ مَعِي وَخَرَجَ مَعَهُ بِالنَّاقَةِ الَّتِي عَرَضَ عَلَيَّ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَتَانِي رَسُولُكَ لِيَأْخُذَ مِنْ صَدَقَةِ مَالِي، وَايْمُ اللهِ مَا قَامَ فِي مَالِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا رَسُولُهُ قَطُّ قَبْلَهُ فَجَمَعْتُ لَهُ مَالِي فَزَعَمَ أَنَّ مَا عَلِيِّ فِيهِ ⦗١٦٣⦘ ابْنَةُ مَخَاضٍ وَذَلِكَ مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرَ وَقَدْ عَرَضْتُ عَلَيْهِ نَاقَةً عَظِيمَةً لِيَأْخُذَهَا فَأَبَى عَلَيَّ وَهَا هِيَ ذِهِ قَدْ جِئْتُكَ بِهَا يَا رَسُولَ اللهِ خُذْهَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَلِكَ الَّذِي عَلَيْكَ فَإِنْ تَطَوَّعْتَ بِخَيْرٍ آجَرَكَ اللهُ فِيهِ وَقَبِلْنَاهُ مِنْكَ "، قَالَ فَهَا هِيَ ذِهِ يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ جِئْتُكَ بِهَا فَخُذْهَا فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْضِهَا وَدَعَا لَهُ فِي مَالِهِ بِالْبَرَكَةِ. وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: نَاقَةً فِتْيَةً عَظِيمَةً سَمِينَةً.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے عامل بنا کر بھیجا، میں ایک آدمی کے پاس سے گزرا تو اس نے اپنا مال جمع کیا، میں نے دیکھا کہ اس پر «بِنْتُ مَخَاضٍ» ”بنت مخاض“ واجب ہے تو میں نے اسے کہا: ”تم ایک «بِنْتُ مَخَاضٍ» ”بنت مخاض“ ادا کر دو، یہی تمہاری زکوۃ ہے۔“ اس نے کہا: یہ وہ جانور ہوتا ہے جس میں نہ دودھ ہوتا ہے اور نہ ہی یہ سواری کے قابل ہوتی ہے، لیکن یہ ایک عمدہ اور جوان اونٹنی ہے، آپ اسے لے لیں۔ میں نے کہا: ”میں وہ چیز نہیں لوں گا جس کا مجھے حکم نہیں دیا گیا، اللہ کے رسول ﷺ قریب ہی تشریف فرما ہیں، اگر تم یہ دینا چاہتے ہو تو آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسے پیش کر دو، جو تم نے مجھے پیش کی ہے۔ اگر آپ ﷺ نے اسے قبول فرما لیا تو میں بھی اسے قبول کر لوں گا اور اگر آپ ﷺ نے اسے رد فرما دیا تو میں بھی اسے واپس کر دوں گا۔“ اس نے کہا: میں ایسا ہی کروں گا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر وہ میرے ساتھ چل دیا اور وہ اونٹنی بھی اس کے ساتھ تھی، یہاں تک کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میرے پاس آپ کا عامل میرے مال کی زکوۃ لینے کے لیے آیا، اللہ کی قسم! اس سے پہلے میرے مال میں کبھی آپ کا کوئی قاصد نہیں آیا، میں نے اپنا مال اس کے سامنے جمع کر دیا تو ان کا خیال ہے کہ میرے مال کی زکوۃ صرف ایک «بِنْتُ مَخَاضٍ» ”بنت مخاض“ ہے، اور یہ وہ جانور ہے جس میں نہ دودھ ہے اور نہ ہی یہ سواری کے قابل ہے، تو میں نے اسے ایک عمدہ جوان اونٹنی پیش کی مگر اس نے اسے لینے سے انکار کر دیا، اور وہ یہی ہے جسے میں آپ ﷺ کے پاس لے کر آیا ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ اسے قبول فرما لیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”تجھ پر واجب تو وہی ہے، البتہ اگر تو اپنی خوشی سے اس سے بہتر دینا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے اس کا اجر عطا فرمائے گا اور ہم اسے تجھ سے قبول کر لیں گے۔“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ یہی ہے، میں اسے آپ کی خدمت میں لایا ہوں، آپ اسے قبول فرما لیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اسے وصول کرنے کا حکم دیا اور اس کے مال میں برکت کی دعا فرمائی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7279
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه أبو داؤد»