❮
❯
حدیث نمبر: 7277
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاقَ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيِّ، عَنْ ⦗١٦٢⦘ مُسْلِمِ بْنِ ثَفِنَةَ الْيَشْكُرِيِّ، قَالَ الْحَسَنُ: رَوْحٌ يَقُولُ: مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ قَالَ: اسْتَعْمَلَ نَافِعُ بْنُ عَلْقَمَةَ أَبِي عَلَى عِرَافَةِ قَوْمِهِ فَأَمَرَهُ يُصْدِقُهُمْ قَالَ: بَعَثَنِي أَبِي فِي طَائِفَةٍ مِنْهُمْ فَأَتَيْتُ شَيْخًا كَبِيرًا يُقَالُ لَهُ سَعْرُ بْنُ دَيْسَمٍ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَبِي بَعَثَنِي إِلَيْكَ يَعْنِي لِأُصْدِقَكَ قَالَ: ابْنَ أَخِي، وَأِيَّ نَحْوٍ تَأْخُذُونَ؟ قُلْتُ: نَخْتَارُ حَتَّى إِنَّا نَتَبَيَّنُ ضُرُوعَ الْغَنَمِ، قَالَ: ابْنَ أَخِي، فَإِنِّي أُحَدِّثُكَ أَنِّي كُنْتُ فِي شِعْبٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَنَمٍ لِي فَجَاءَنِي رَجُلَانِ عَلَى بَعِيرٍ فَقَالَا لِي: إِنَّا رَسُولَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكَ لِتُؤَدِّيَ صَدَقَةَ غَنَمِكَ فَقُلْتُ: مَا عَلَيَّ فِيهَا؟ فَقَالَا: شَاةٌ فَأَعْمِدُ إِلَى شَاةٍ قَدْ عَرَفْتُ مَكَانَهَا مُمْتَلِئَةً مَحْضًا وَشَحْمًا، فَأَخْرَجْتُهَا إِلَيْهِمَا، فَقَالَا: هَذِهِ شَاةُ الشَّافِعِ وَقَدْ نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَأْخُذَ شَافِعًا، قُلْتُ: فَأَيَّ شَيْءٍ تَأْخُذَانِ؟ قَالَا: عَنَاقًا جَذَعَةً أَوْ ثَنِيَّةً، قَالَ: فَأَعْمِدُ إِلَى عَنَاقٍ مُعْتَاطٍ، وَالْمُعْتَاطُ: الَّتِي لَمْ تَلِدْ وَلَدًا وَقَدْ حَانَ وِلَادُهَا، فَأَخْرَجْتُهَا إِلَيْهِمَا، فَقَالَا: نَاوِلْنَاهَا، فَجَعَلَاهَا مَعَهُمَا عَلَى بَعِيرِهِمَا ثُمَّ انْطَلَقَا. كَذَا قَالَ وَكِيعٌ مَحْضًا وَالصَّوَابُ مَخَاضًا، وَقَالَ: مُسْلِمُ بْنُ ثَفِنَةَ وَالصَّوَابُ مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ قَالَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ مِنَ الْحُفَّاظِ،.
حافظ ثناء اللہ

مسلم بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نافع بن علقمہ نے میرے والد کو ان کی قوم کا سردار (عریف) مقرر کیا اور انھیں حکم دیا کہ وہ ان سے زکوٰۃ وصول کریں۔ فرماتے ہیں: مجھے میرے والد نے ان میں سے ایک گروہ کی طرف بھیجا، میں ایک بوڑھے بزرگ کے پاس آیا جنہیں سعر بن دیسم کہا جاتا ہے، تو میں نے کہا: میرے ابا نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ سے زکوٰۃ وصول کروں۔ انھوں نے کہا: اے میرے بھتیجے! تم کس طرح لیتے ہو؟ تو میں نے کہا: ہم چھانٹ کر لیتے ہیں، یہاں تک کہ بکریوں کے تھن بھی دیکھ لیتے ہیں۔ وہ کہنے لگے: اے بھتیجے! میں تجھے حدیث بیان کرتا ہوں، میں رسول اللہ ﷺ کے دور میں ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں اپنی بکریوں کے ساتھ تھا، تو میرے پاس دو آدمی ایک اونٹ پر سوار ہو کر آئے، انھوں نے کہا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے قاصد ہیں، تیری طرف (بھیجے گئے ہیں) تاکہ تو اپنی بکریوں کی زکوٰۃ ادا کرے۔“ میں نے کہا: مجھ پر ان میں کیا واجب ہے؟ تو انھوں نے کہا: ”ایک بکری۔“ تو میں ایک بکری کی طرف بڑھا جس کی جگہ میں جانتا تھا، وہ دودھ اور چربی سے بھری ہوئی تھی، اسے میں نے ان کی طرف نکالا تو انھوں نے کہا: ”یہ تو حاملہ (شافع) بکری ہے اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں منع فرمایا ہے کہ ہم حاملہ بکری لیں۔“ میں نے کہا: پھر تم کون سی لو گے؟ انھوں نے کہا: ”بکری کا ایسا بچہ جو «جَذَعَة» ہو یا «ثَنِيَّة»۔“ فرماتے ہیں: پھر میں ایک معتاط بکری کی طرف بڑھا، معتاط وہ ہوتی ہے جس نے ابھی بچہ نہ جنا ہو اور اس کی ولادت کا وقت آ چکا ہو، تو میں نے اسے ان کی طرف نکالا تو انھوں نے کہا: ”ہمیں پکڑا دو۔“ تو انھوں نے اسے اپنے ساتھ اپنے اونٹ پر رکھا اور چل دیے۔
وکیع نے «مَحْضًا» (خالص دودھ) کہا ہے جبکہ درست «مَخَاضًا» (حمل) ہے، اور انہوں نے مسلم بن ثفنہ کہا ہے جبکہ درست مسلم بن شعبہ ہے، یہ بات یحییٰ بن معین اور دیگر حفاظ نے کہی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7277
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه أبو داؤد»