حدیث نمبر: 7251
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: " إِنَّ هَذَا كِتَابُ الصَّدَقَاتِ فِيهِ فِي كُلِّ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ فَدُونَهَا الْغَنَمُ فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ بِنْتَ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى سِتِّينَ حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْفَحْلِ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ جَذَعَةٌ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى تِسْعِينَ ابْنَتَا لَبُونٍ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْفَحْلِ فَمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَفِي سَائِمَةِ الْغَنَمِ إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةَ شَاةٍ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى مِائَتَيْنِ شَاتَانِ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ ثَلَاثُ شِيَاهٍ فَمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، وَلَا تُخْرَجُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ وَلَا تَيْسٌ إِلَّا مَا شَاءَ الْمُصَدِّقُ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، وَفِي الرِّقَةِ رُبْعُ الْعُشْرِ إِذَا بَلَغَتْ رِقَةُ أَحَدِهِمْ خَمْسَ أَوَاقٍ " هَذِهِ نُسْخَةُ كِتَابِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الَّتِي كَانَ يَأْخُذُ عَلَيْهَا قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَبِهَذَا كُلِّهِ نَأْخُذُ وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ زکوٰۃ کے نصاب کی تحریر ہے: ”چوبیس یا اس سے کم اونٹوں میں ہر پانچ پر ایک بکری ہے اور جو اس سے زیادہ پینتیس تک میں «بِنْتُ مَخَاضٍ» ”بنت مخاض“ ہے، اگر «بِنْتُ مَخَاضٍ» ”بنت مخاض“ نہ ہو تو مذکر «اِبْنُ لَبُونٍ» ”ابن لبون“ ہے اور اس سے اوپر پینتالیس تک «بِنْتُ لَبُونٍ» ”بنت لبون“ مؤنث ہے اور جو اس سے زیادہ ہوں تو ساٹھ تک «حِقَّةٌ» ”حقہ“ ہے، جو سانڈ کو قبول کرے اور جو اس سے زیادہ ہوں تو پچھتر تک «جَذَعَةٌ» ”جذعہ“ ہے اور اگر اس سے زیادہ ہوں تو نوے تک دو «بِنْتَا لَبُونٍ» ”بنت لبون“ ہیں، اگر اس سے زیادہ ہوں تو ایک سو بیس تک دو «حِقَّتَانِ» ”حقے“ ہیں جو سانڈ کو قبول کرنے والیاں ہوں اور جو اس سے زیادہ ہوں تو ہر چالیس میں «بِنْتُ لَبُونٍ» ”بنت لبون“ اور ہر پچاس میں «حِقَّةٌ» ”حقہ“ ہے اور چرنے والی بکریاں جب چالیس سے ایک سو بیس تک پہنچیں تو ان میں سے ایک بکری ہے اور جو اس سے زیادہ ہوں تو دو سو تک دو بکریاں اور زیادہ ہوں تو تین سو میں تین بکریاں اور جو اس سے زیادہ ہوں گی تو ہر سو میں ایک بکری ہے اور زکوٰۃ میں بوڑھی، بھینگی اور سانڈ نہیں نکالا جائے گا مگر یہ کہ عامل خود لینا چاہے اور جدا جدا چرنے والیوں کو اکٹھا نہ کیا جائے اور نہ ہی اکٹھی چرنے والیوں کو جدا جدا کیا جائے زکوٰۃ کے ڈر سے اور جو شراکت دار ہیں وہ برابر میں تقسیم کریں گے اور چاندی میں چوتھائی عشر ہے، جب تم میں سے کسی کے پاس چاندی پانچ «أُوقِيَّةٍ» ”اوقیہ“ تک پہنچ جائے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7251
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه الشافعي»