السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: كيف فرض الصدقة باب: زکوٰۃ کیسے فرض کی گئی ہے اس کا بیان
يَعْنِي مِثْلَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ، ثنا يُوسُفُ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ، حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَيُّوبَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ السَّرَّاجَ، وَعُبَيْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُونَ عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ قَرَأَ كِتَابَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ شَيْءٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى التِّسْعِ فَإِذَا كَانَتْ عَشْرًا فَشَاتَانِ إِلَى أَرْبَعَ عَشْرَةَ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ فَفِيهَا ثَلَاثٌ إِلَى تِسْعَ عَشْرَةَ فَإِذَا بَلَغَتِ الْعِشْرِينَ فَأَرْبَعٌ إِلَى أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى السِّتِّينَ فَإِذَا زَادَتْ فَجَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى التِّسْعِينَ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ وَلَيْسَ فِي الْغَنَمِ شَيْءٌ فِيمَا دُونَ الْأَرْبَعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتِ الْأَرْبَعِينَ فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى ⦗١٤٧⦘ عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ فَشَاتَانِ إِلَى الْمِائَتَيْنِ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى الْمِائَتَيْنِ فَثَلَاثٌ إِلَى ثَلَاثِ مِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلَاثِ مِائَةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ تَامَّةٍ شَاةٌ " وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ. وَرَوَاهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: هَذِهِ نُسْخَةُ كِتَابِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی تحریر پڑھی جس میں تھا کہ ”پانچ اونٹوں سے کم پر کوئی زکوٰۃ نہیں، جب وہ پانچ ہو جائیں تو نو تک ایک بکری ہے۔ جب دس ہو جائیں تو چودہ تک دو بکریاں ہیں۔ جب پندرہ ہو جائیں تو انیس تک تین بکریاں ہیں۔ جب بیس ہو جائیں تو چوبیس تک چار بکریاں۔ جب ان کی تعداد پچیس ہو جائے تو پینتیس تک «بِنْتُ مَخَاضٍ» ”بنت مخاض“ ہیں۔ جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو پینتالیس تک «بِنْتُ لَبُونٍ» ”بنت لبون“ ہے۔ پھر جب ساٹھ ہو جائیں تو اس میں «حِقَّةٌ» ”حقہ“ ہے۔ جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو پچھتر تک «جَذَعَةٌ» ”جذعہ“ ہے، جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو نوے تک دو «بِنْتُ لَبُونٍ» ”بنت لبون“ ہیں۔ جب اس سے بھی زیادہ ہو جائیں تو ایک سو بیس تک دو «حِقَّةٌ» ”حقے“ ہیں۔ پھر اگر اس سے زیادہ ہوں تو ہر پچاس میں «حِقَّةٌ» ”حقہ“ اور چالیس میں «بِنْتُ لَبُونٍ» ”بنت لبون“ ہے اور چالیس بکریوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں۔ جب وہ چالیس ہو جائیں تو ایک سو بیس تک ایک بکری ہے۔ جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو دو سو تک دو بکریاں ہیں۔ جب دو سو سے زیادہ ہو جائیں تو تین سو تک تین بکریاں ہیں، جب تین سو سے زائد ہو جائیں تو ہر سو میں ایک بکری ہے۔“