السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما ورد من الوعيد فيمن كنز مال زكاة ولم يؤد زكاته باب: اس شخص کے بارے میں وارد شدہ وعید کا بیان جس نے زکوٰۃ کے مال کو خزانہ بنا کر رکھا اور اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی
حدیث نمبر: 7227
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَامِرٍ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عُرِضَ عَلَيَّ أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَأَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ، فَأَمَّا أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فَالشَّهِيدُ وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللهِ وَنَصَحَ لِسَيِّدِهِ، وَفَقِيرٌ مُتَعَفِّفٌ ذُو عِيَالٍ، وَأَمَّا أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ فَسُلْطَانٌ مُسَلَّطٌ وَذُو ثَرْوَةٍ مِنَ الْمَالِ لَمْ يُعْطِ حَقَّ مَالِهِ وَفَقِيرٌ فَجُورٌ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن تین قسم کے لوگ جو سب سے پہلے جنت اور جہنم میں داخل کیے جائیں گے، انہیں جنت میں میرے رو برو پیش کیا جائے گا، سب سے پہلے داخل ہونے والوں میں سے شہید ہوگا اور دوسرا وہ ہوگا جس نے حقوق اللہ ادا کیے ہوں گے اور اپنے مالک کی خیر خواہی کی ہوگی اور تیسرا عیال دار فقیر ہوگا جو سوال کرنے سے بچتا رہا ہوگا اور جہنم میں سب سے پہلے داخل ہونے والوں میں ایسا بادشاہ جو لوگوں پر مسلط ہوا ہوگا اور ایسا مال دار آدمی جس نے مال کا حق (زکوۃ) ادا نہ کی ہوگی اور فخر کرنے والا فقیر۔“