حدیث نمبر: 7225
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ، حَدَّثَنِي أَبِي وَيَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْهَرَوِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ الْأُمَوِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، ثنا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ إِلَّا أُحْمِيَ عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُجْعَلُ صَفَائِحُ فَيُكْوَى بِهَا جَنْبَاهُ وَجَبِينُهُ حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ كَأَوْفَرَ مَا كَانَتْ تَسِيرُ عَلَيْهِ، كُلَّمَا مَضَى أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ كَأَوْفَرَ مَا كَانَتْ فَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلَا جَلْحَاءُ كُلَّمَا مَضَى عَلَيْهِ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ " قَالَ سُهَيْلٌ: فَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ الْبَقَرَ أَمْ لَا قَالُوا: فَالْخَيْلُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " أَوْ قَالَ " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " قَالَ سُهَيْلٌ أَنَا أَشُكُّ " الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ فَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا فِي سَبِيلِ اللهِ وَيُعِدُّهَا لَهُ فَلَا يُغَيِّبُ شَيْئًا فِي بُطُونِهَا إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ بِهَا أَجْرًا وَلَوْ رَعَاهَا فِي مَرْجٍ مَا أَكَلَتْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ بِهَا أَجْرًا، وَلَوْ سَقَاهَا مِنْ نَهْرٍ كَانَ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ يُغَيِّبُهَا فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ حَتَّى ذَكَرَ الْأَجْرَ فِي أَبْوَالِهَا وَأَرْوَاثِهَا، وَلَوِ اسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَتَبَ اللهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ تَخْطُوهَا أَجْرًا وَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا تَكَرُّمًا وَتَجَمُّلًا، وَلَا يَنْسَى حَقَّ اللهِ فِي ظُهُورِهَا وَبُطُونِهَا فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا وَأَمَّا الَّذِي هِيَ ⦗١٣٨⦘ عَلَيْهِ وِزْرٌ فَالَّذِي يَتَّخِذُهَا أَشَرًا وَبَطَرًا وَبَذَخًا وَرِئَاءً لِلنَّاسِ فَذَاكَ الَّذِي عَلَيْهِ وِزْرٌ " قَالُوا: فَالْحُمُرُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " مَا أَنْزَلَ اللهُ عَلَيَّ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْجَامِعَةَ الْفَاذَّةَ {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} [الزلزلة: ٨] "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، وَرَوَاهُ حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا " فَذَكَرَهُ ثُمَّ ذَكَرَ الْإِبِلَ ثُمَّ ذَكَرَ الْبَقَرَ وَالْغَنَمَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو خزانے والا اس کی زکوۃ ادا نہیں کرتا اسے دوزخ کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور پلیٹوں کی مانند بنایا جائے گا۔ پھر اس سے اس کے پہلو اور پیشانی کو داغا جائے گا حتیٰ کہ اللہ اپنے بندوں میں فیصلہ نہ کر دیں، اس دن جس کی مقدار تمہاری گنتی کے مطابق پچاس ہزار سال ہو گی۔ پھر اسے اس کا راستہ جنت یا دوزخ کی طرف دکھایا جائے گا اور جو اونٹوں والا اپنے اونٹوں کی زکوۃ ادا نہیں کرتا اسے صاف میدان میں لٹایا جائے گا اور اس کے زکوۃ نہ ادا کیے ہوئے اونٹوں کو اس پر سے گزارا جائے گا۔ جب آخری گزر جائے گا تو دوبارہ پھر پہلے کو لایا جائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا فیصلہ نہ کر دیں گے۔ اس دن جس کی مقدار تمہاری گنتی میں پچاس ہزار سال کے برابر ہو گی۔ پھر اسے اس کا راستہ جنت یا دوزخ کی طرف دکھایا جائے گا اور جو بکریوں والا ان کی زکوۃ ادا نہ کرے تو بکریاں اسے اپنے پاؤں سے روندیں گی اور سینگ ماریں گی۔ ان میں کوئی بغیر سینگوں کے نہیں ہو گی اور نہ کوئی لنگڑی ہو گی، جب اس پر سے آخری گزرے گی تو پہلی کو لایا جائے گا، یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں میں فیصلہ کر دیں اس دن جس کی مقدار تمہارے اندازے کے مطابق پچاس ہزار سال ہو گی، پھر اسے اس کا جنت یا دوزخ کا راستہ دکھایا جائے گا۔“ سہیل کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں کہ آپ ﷺ نے گائے کا تذکرہ کیا یا نہیں، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! گھوڑے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک بھلائی اللہ نے قیامت کے دن تک خیر و برکت باندھی ہے“ یا آپ ﷺ نے فرمایا: ”گھوڑے کی پیشانی میں باندھی گئی ہے“ اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”گھوڑا تین طرح کا ہے، یہ مالک کے لیے باعثِ اجر ہے اور باعثِ ستر (پردہ) اور باعثِ بوجھ ہو گا۔ سو وہ جو باعثِ اجر ہو گا وہ ہو گا جسے آدمی اللہ کی راہ میں وقف کر دے گا اور اسی کے لیے تیار کرے گا تو پھر اس کے پیٹ میں کوئی چیز غائب نہیں ہو گی۔ مگر اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کے لیے اجر لکھیں گے۔ اگر اس نے اسے چرا گاہ میں چرایا اور اس نے جو کھایا تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کے لیے اجر لکھ دیں گے یا اس نے اسے نہر سے پلایا تو اس کے لیے ہر قطرے کے عوض جو اس کے پیٹ میں اترا اس کا بھی اجر ہو گا، یہاں تک کہ فرمایا: اس کے بول و براز (گوبر) میں بھی اجر ہے اور اگر وہ ایک دو ٹیلوں پر چڑھا تو ہر قدم کے بدلے اسے اجر ہو گا، لیکن وہ جو اس کے لیے پردہ (دھال) ہو گا وہ یہ ہے جسے انسان خوبصورتی اور عظمت کے لیے رکھتا ہے، مگر وہ اس کی پیٹھ میں اللہ کا حق نہیں بھولتا اور نہ ہی اس کے پیٹ میں تنگی و آسانی میں، لیکن وہ جو اس کے لیے بوجھ ہو گا وہ یہ ہے جسے اس نے غرور و تکبر اور ریا و دکھلاوے کے لیے رکھا وہ یہ ہے جو اس کے لیے بوجھ ہو گا۔“ انہوں نے کہا: پھر گدھے کے بارے میں کیا ہے؟ اے اللہ کے رسول! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں مجھ پر کوئی آیت نازل نہیں کی سوائے اس جامع آیت کے ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ * وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ [سورة الزلزلة: 7-8]۔“
حفص بن میسرہ اور ہشام بن سعد فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: ”جو سونے یا چاندی والا اس کا حق (زکوۃ) ادا نہیں کرتا، پھر اس کا تذکرہ کیا پھر گائے اور بکریوں کا بھی۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7225
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم»