❮
❯
حدیث نمبر: 7208
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو حُمَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَامِدٍ الْعَدْلُ بِالطَّابِرَانِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَزُورُ قَبْرَ عَمِّهَا حَمْزَةَ كُلَّ جُمُعَةٍ فَتُصَلِّي وَتَبْكِي عِنْدَهُ. كَذَا قَالَ وَقَدْ قِيلَ عَنْهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ دُونَ ذِكْرِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ أَبِيهِ فِيهِ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رُوِّيَنَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِامْرَأَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ وَهِيَ تَبْكِي فَقَالَ لَهَا: " اتَّقِي اللهَ وَاصْبِرِي " وَلَيْسَ فِي الْخَبَرِ أَنَّهُ نَهَاهَا عَنِ الْخُرُوجِ إِلَى الْمَقْبَرَةِ وَفِي ذَلِكَ تَقْوِيَةٌ لِمَا رُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَّا أَنَّ أَصَحَّ مَا رُوِيَ فِي ذَلِكَ صَرِيحًا حَدِيثُ أُمِّ عَطِيَّةَ وَمَا يُوَافِقُهُ مِنَ الْأَخْبَارِ فَلَوْ تَنَزَّهْنَ عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَالْخُرُوجِ إِلَى الْمَقَابِرِ وَزِيَارَةِ الْقُبُورِ كَانَ أَبْرَأَ لِدِينِهِنَّ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا علی بن حسین رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہر جمعہ کے روز اپنے چچا سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت کے لیے تشریف لے جاتیں، ان کے لیے دعائے مغفرت کرتیں اور آنسو بہاتیں۔
یہ روایت (سلیمان بن داود عن ابیہ عن جعفر بن محمد عن ابیہ کی سند سے) علی بن حسین عن ابیہ کے ذکر کے بغیر بھی بیان کی گئی ہے اور وہ منقطع ہے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک عورت کے پاس سے گزرے جو قبر پر رو رہی تھی تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اللہ سے ڈر اور صبر کر۔“ اس میں یہ خبر نہیں کہ آپ ﷺ نے اسے قبرستان کی طرف نکلنے سے منع کیا اور اس میں اس کی تقویت ہے جو حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا میں بیان ہوا۔ مگر اس بارے میں صراحت کے ساتھ سب سے صحیح روایت سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث اور اس کے موافق روایات ہیں، اگر عورتیں جنازوں کے پیچھے جانے، قبرستان کی طرف نکلنے اور زیارتِ قبور سے بچتیں تو یہ ان کے دین کے لیے زیادہ محفوظ ہوتا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7208
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه الحاكم»