السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما ورد في دخولهن في عموم قوله فزوروها باب: آپ ﷺ کے فرمان ”پس تم ان کی زیارت کیا کرو“ کے عموم میں عورتوں کے شامل ہونے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان
حدیث نمبر: 7207
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ يَزِيدَ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَقْبَلَتْ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الْمَقَابِرِ فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتِ؟ قَالَتْ: " مِنْ قَبْرِ أَخِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ " فَقُلْتُ لَهَا: أَلَيْسَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ؟ قَالَتْ " نَعَمْ كَانَ نَهَى ثُمَّ أَمَرَ بِزِيَارَتِهَا " تَفَرَّدَ بِهِ بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ الْبَصْرِيُّ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قبرستان کی طرف سے تشریف لا رہی تھیں۔ میں نے عرض کیا: اے ام المؤمنین! آپ کہاں سے تشریف لا رہی ہیں؟ فرمانے لگیں: اپنے بھائی عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی قبر پر گئی تھی۔ میں نے عرض کیا: کیا آپ ﷺ نے ”قبروں کی زیارت سے منع“ نہیں فرمایا تھا؟ کہنے لگیں: ”آپ ﷺ نے منع فرمایا تھا، لیکن بعد میں اجازت دے دی تھی۔“