السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يقول إذا دخل مقبرة باب: قبرستان میں داخل ہوتے وقت پڑھے جانے والے کلمات کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْمَقْبَرَةَ فَقَالَ: " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا " قَالُوا: أَوَ لَسْنَا إِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " بَلْ ⦗١٣٢⦘ أَنْتُمْ أَصْحَابِي وَإِخْوَانِي الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ " قَالُوا: كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ بَعْدُ مِنْ أُمَّتِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ بَيْنَ ظَهْرَيْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ؟ " قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ، أَلَا لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ، أُنَادِيهِمْ أَلَا هَلُمَّ، فَيُقَالُ: إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: " سُحْقًا سُحْقًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ وَغَيْرِهِ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قبرستان آئے اور فرمایا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا» ”اے مومنین کے گھر والو! تم پر سلامتی ہو، اگر اللہ نے چاہا تو بیشک ہم تمہیں ملنے والے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھیں۔“ لوگوں نے کہا: کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ تم میرے ساتھی ہو اور میرے بھائی وہ ہیں جو بعد میں آئیں گے۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو آپ کی امت میں سے بعد میں آئیں گے آپ انہیں کیسے پہچانیں گے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرا کیا خیال ہے کہ اگر کسی شخص کے سفید ماتھے اور پنڈلیوں والے گھوڑے کالے سیاہ گھوڑوں کے درمیان ہوں تو کیا وہ اپنے گھوڑے کو پہچان لے گا؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے لوگ بھی وضو کی وجہ سے روشن چہرے اور ہاتھوں والے ہوں گے اور میں حوض پر ان کا پیش رو ہوں گا، خبردار! میرے حوض سے لوگوں کو ہٹایا جائے گا جیسے بھٹکے ہوئے اونٹ کو ہٹایا جاتا ہے، میں انہیں آوازیں دوں گا کہ: ادھر آؤ! تو کہا جائے گا کہ انہوں نے آپ کے بعد دین کو بدل دیا تھا، تب میں کہوں گا: «سُحْقًا سُحْقًا» ”دور ہٹا دو، دور ہٹا دو۔““