السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الثناء على الميت وذكره بما كان فيه من الخير باب: میت کی تعریف کرنے اور اس میں موجود بھلائی کا ذکر کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ عَفَّانُ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ وَقَدْ وَقَعَ بِهَا مَرَضٌ فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَمَرَّتْ بِهِمْ جِنَازَةٌ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَجَبَتْ. ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَجَبَتْ ثُمَّ مُرَّ بِالثَّالِثِ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا شَرًّا فَقَالَ عُمَرُ: ⦗١٢٦⦘ وَجَبَتْ. فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ فَقُلْتُ: مَا وَجَبَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: قُلْتُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا مُسْلِمٍ شَهِدَ لَهُ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ " قَالَ: قُلْنَا وَثَلَاثَةٌ؟ قَالَ: " وَثَلَاثَةٌ " قَالَ: قُلْنَا: وَاثْنَانِ؟ قَالَ: " وَاثْنَانِ "، قَالَ: لَمْ نَسْأَلْهُ عَنِ الْوَاحِدِ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، فَقَالَ: قَالَ عَفَّانُ فَذَكَرَهُ.ابوالاسود دیلی فرماتے ہیں کہ میں مدینہ کی طرف نکلا اور وہاں بیماری تھی تو میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھ گیا، تو ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، اس کی اچھی تعریف کی گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”واجب ہوگئی۔“ پھر دوسرا جنازہ گزرا اس کی اچھائی بیان کی گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”واجب ہوگئی۔“ پھر تیسرا جنازہ گزرا تو اس کی برائی بیان کی گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”واجب ہوگئی۔“ ابوالاسود کہتے ہیں: میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! کیا واجب ہوگئی؟ انہوں نے کہا: میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے ایسے ہی پوچھا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس مسلمان کے لیے چار بندے اس کی بھلائی (نیکی) کی گواہی دے دیں تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کریں گے۔“ ہم نے کہا: اگر تین ہوں؟ تو انہوں نے کہا: ”تین بھی۔“ ہم نے کہا: دو ہوں؟ تو انہوں نے کہا: ”دو بھی۔“ پھر ہم نے ایک کے بارے میں نہ پوچھا۔