السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الثناء على الميت وذكره بما كان فيه من الخير باب: میت کی تعریف کرنے اور اس میں موجود بھلائی کا ذکر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 7185
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ مُرَّ بِجِنَازَةٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَثْنُوا عَلَيْهِ " فَقَالُوا: كَانَ فِيمَا عَلِمْنَا يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا فَقَالَ: " وَجَبَتْ " قَالَ ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ: " أَثْنُوا " عَلَيْهِ فَقَالُوا: بِئْسَ الْمَرْءُ كَانَ فِي دِينِ اللهِ، فَقَالَ: " وَجَبَتْ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللهِ فِي الْأَرْضِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی تعریف بیان کرو۔“ انہوں نے کہا: ہم جانتے ہیں کہ وہ اللہ اور رسول سے محبت کرتا تھا، یعنی اس کی اچھی تعریف کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”واجب ہو گئی۔“ پھر آپ ﷺ کے پاس سے دوسرا جنازہ گزرا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے بارے میں بیان کرو۔“ تو اس کے بارے میں لوگوں نے بری بات کہی کہ وہ اللہ کے دین کے ساتھ اچھا نہیں تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس پر واجب ہو گئی اور تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔“