السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: سياق أخبار تدل على أن الميت يعذب بالنياحة عليه وما روي عن عائشة رضي الله عنها في ذلك. باب: ان احادیث کا بیان جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ میت کو اس پر نوحہ کیے جانے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے اور اس بارے میں جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 7177
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ فَطَنٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ جِنَازَةَ أُخْتِ أَبَانَ بِنْتِ عُثْمَانَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ يُخَالِفُهُ فِي بَعْضِ الْأَلْفَاظِ قَالَ أَيُّوبُ: قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: لَمَّا بَلَغَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَوْلُ عُمَرَ وَابْنِ عُمَرَ قَالَتْ: " إِنَّكُمْ لَتُحَدِّثُونَ عَنْ غَيْرِ كَاذِبَيْنِ وَلَا مُكَذَّبَيْنِ وَلَكِنَّ السَّمْعَ يُخْطِئُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ رُشَيْدٍ ⦗١٢٣⦘.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی فرماتے ہیں کہ ہم ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ام ابان بنت عثمان کے جنازے کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔ انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔
قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو عمر رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما تو انہوں نے فرمایا کہ تم ان سے بیان کر رہے ہو جو نہ تو جھوٹے ہیں اور نہ ہی جھٹلائے گئے ہیں، لیکن سننے میں غلطی ہوتی ہے۔