حدیث نمبر: 7176
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْمُونٍ الصَّائِغُ، بِمَرْوٍ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ ابْنُ ⦗١٢٢⦘ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمَكَّةَ، وَجِئْنَا لِنَشْهَدَهَا قَالَ: وَحَضَرَهَا ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ وَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَهُمَا أَوْ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى أَحَدِهِمَا، ثُمَّ جَاءَ الْآخَرُ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ لِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ: أَلَا تَنْهَى النِّسَاءَ عَنِ الْبُكَاءِ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ ثُمَّ حَدَّثَ قَالَ: صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ إِذَا هُوَ بِرَكْبٍ تَحْتَ ظِلِّ شَجَرَةٍ فَقَالَ: اذْهَبْ وَانْظُرْ إِلَى هَؤُلَاءِ الرَّكْبِ قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ: ادْعُهُ لِي فَرَجَعْتُ إِلَى صُهَيْبٍ فَقُلْتُ: ارْتَحِلْ فَالْحَقْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ دَخَلَ صُهَيْبٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَبْكِي يَقُولُ: وَا أَخَاهُ وَا صَاحِبَاهُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا صُهَيْبُ أَتَبْكِي عَلَيَّ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: رَحِمَ اللهُ عُمَرَ وَاللهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللهَ يُعَذِّبُ الْمُؤْمِنَ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، وَلَكِنْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ لَيَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " قَالَ: وَقَالَتْ عَائِشَةُ: حَسْبُكُمُ الْقُرْآنُ {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: ١٦٤]. قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عِنْدَ ذَلِكَ: وَاللهُ أَضْحَكَ وَأَبْكَى، قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ فَوَاللهِ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ شَيْئًا لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُبَارَكٍ، وَحَدِيثُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ بِمَعْنَاهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ

عبید اللہ بن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مکہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیٹی فوت ہوگئی، ہم اس (کے جنازے) میں حاضر ہونے کے لیے آئے تو سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی تشریف فرما تھے اور میں ان کے درمیان میں تھا۔ وہ فرماتے ہیں: میں ان میں سے ایک کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو دوسرا بھی آیا اور میرے پہلو میں بیٹھ گیا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عمرو بن عثمان سے کہا: کیا تو عورتوں کو رونے سے منع نہیں کرتا؟ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔“ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کچھ کہتے تھے، پھر حدیث بیان کی کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ سے آیا، جب ہم بیداء کے مقام پر آئے تو وہ قافلے کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھے، تو انہوں نے کہا: جاؤ دیکھو یہ قافلے والے کون ہیں؟ وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا تو وہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے کہا: اسے میرے پاس بلاؤ، تو میں سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ امیر المؤمنین کے پاس چلو۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ روتے ہوئے داخل ہوئے اور وہ کہہ رہے تھے: ہائے میرے بھائی! ہائے میرے ساتھی! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے صہیب! کیا تو مجھ پر روتا ہے؟ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک میت کو گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔“ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا: اللہ ان پر رحم کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایسے بیان نہیں کیا (کہ): ”بیشک اللہ تعالیٰ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیتا ہے“ بلکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ کافر کے عذاب کو اس کے اہل کے رونے کی وجہ سے زیادہ کر دیتا ہے۔“ وہ کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تمہیں قرآن کافی ہے ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورة الأنعام: 164] ”اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“ وہ فرماتے ہیں تب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ ہی رلاتا اور ہنساتا ہے۔ ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے (اس کے جواب میں) ایسا کچھ نہیں کہا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7176
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري»