السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: سياق أخبار تدل على جواز البكاء بعد الموت. باب: ان احادیث کا بیان جو موت کے بعد رونے کے جواز پر دلالت کرتی ہیں
حدیث نمبر: 7162
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ، عَلَيْهَا السَّلَامُ، بَكَتْ أَبَاهَا فَقَالَتْ: " يَا أَبَتَاهُ مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهُ، يَا أَبَتَاهُ إِلَى جَبْرَائِيلَ أَنْعَاهُ، يَا أَبَتَاهُ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ ". زَادَ فِيهِ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ: " يَا أَبَتَاهُ أَجَابَ رَبًّا دَعَاهُ " وَمِنْ ذَلِكَ الْوَجْهِ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے ابا کے بارے میں روئیں اور کہا: ”ہائے ابا جان! اپنے رب کے کس قدر قریب ہیں! ہائے ابا جان! ہم جبرئیل کو ان (کی وفات) کی خبر دیتے ہیں، ہائے ابا جان! جنت الفردوس ان کا ٹھکانا ہے“ اور ان الفاظ کا اضافہ بھی کیا گیا ہے کہ ”میرے ابا نے اپنے رب کی پکار کو قبول کر لیا ہے۔“