کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ان احادیث کا بیان جو موت کے بعد رونے کے جواز پر دلالت کرتی ہیں
حدیث نمبر: 7156
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: نَعَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعْفَرًا وَزَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ نَعَاهُمْ قَبْلَ أَنْ يَجِئَ خَبَرُهُمْ نَعَاهُمْ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ. وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ: " شَهِدْنَا ابْنَةً لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جعفر، زید بن حارثہ اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی موت کی خبر دی، ان کی خبر آنے سے پہلے اور آپ ﷺ کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کی وفات پر گئے اور رسول اللہ ﷺ قبر پر بیٹھے تھے اور میں نے دیکھا آپ کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7156
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري»
حدیث نمبر: 7157
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو مُنَيْنٍ يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ زَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ ثُمَّ قَالَ: " اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي وَاسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يَأْذَنْ لِي فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو آپ ﷺ رو دیے اور جو لوگ آپ کے ارد گرد تھے آپ نے انہیں بھی رلا دیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے اجازت طلب کی کہ میں ان کی قبر کی زیارت کروں تو مجھے اجازت دے دی گئی اور میں نے بخشش کی دعا کی اجازت طلب کی تو مجھے اجازت نہ دی گئی۔ سو تم قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ موت کی یاد دلاتی ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7157
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه المسلم»
حدیث نمبر: 7158
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا يَزِيدُ، فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي بَعْضِ النُّسَخِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبید فرماتے ہیں: ہمیں یزید نے ایسی ہی حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7158
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 7159
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرٍو أَخْبَرَهُ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَزْرَقِ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ بِالسُّوقِ فَمُرَّ بِجِنَازَةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا، قَالَ: فَعَابَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ وَانْتَهَرَهُنَّ قَالَ: فَقَالَ سَلَمَةُ: لَا تَقُلْ ذَلِكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَأَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ لَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ وَأَنَا مَعَهُ وَمَعَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَنِسَاءٌ يَبْكِينَ عَلَيْهَا فَزَبَرَهُنَّ عُمَرُ وَانْتَهَرَهُنَّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُنَّ يَا عُمَرُ فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ وَالنَّفْسَ مُصَابَةٌ وَالْعَهْدَ حَدِيثٌ "، قَالُوا: أَنْتَ سَمِعْتَهُ يَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَاللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، مَرَّتَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
سلمہ بن ازرق سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بازار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک جنازہ گزرا، جس پر رویا جا رہا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے ناپسند کیا اور انہیں ڈانٹا، سلمہ نے کہا: ایسے نہ کہو اے ابو عبد الرحمن! میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو انہیں کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے جنازہ گزرا اور میں آپ کے ساتھ تھا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے اور عورتیں اس پر رو رہی تھیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا اور منع کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! انہیں چھوڑ دے، آنکھ آنسو بہانے والی ہے اور نفس تکلیف زدہ ہے اور زخم تازہ ہے۔“ انہوں نے کہا: تو نے یہ کہتے ہوئے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: یا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، یہ بات دو مرتبہ کہی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7159
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه ابن حبان»
حدیث نمبر: 7160
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ فَارِسٍ ⦗١١٨⦘ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو بِشْرٍ يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بَكَتِ النِّسَاءُ عَلَى رُقَيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَجَعَلَ عُمَرُ يَنْهَاهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَهْ يَا عُمَرُ "، ثُمَّ قَالَ: " إِيَّاكُنَّ وَنَعِيقَ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ مَهْمَا يَكُنْ مِنَ الْعَيْنِ وَالْقَلْبِ فَمِنَ الرَّحْمَةِ وَمَا يَكُونُ مِنَ اللِّسَانِ وَالْيَدِ فَمِنَ الشَّيْطَانِ " قَالَ: وَجَعَلَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَبْكِي عَلَى شَفِيرِ قَبْرِ رُقَيَّةَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الدُّمُوعَ عَنْ وَجْهِهَا بِالْيَدِ أَوْ قَالَ بِالثَّوْبِ. وَهَذَا وَإِنْ كَانَ غَيْرَ قَوِيٍّ فَقَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْهُ: " إِنَّ اللهَ لَا يُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ وَلَا بِحُزْنِ الْقَلْبِ وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ أَوْ يَرْحَمُ " يَدُلُّ عَلَى مَعْنَاهُ وَيَشْهَدُ لَهُ بِالصِّحَّةِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا پر عورتیں روئیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں منع کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! انھیں چھوڑ دو۔“ پھر فرمایا: ”تم شیطان کی چیخ سے بچو، ویسے اگر وہ آنکھ اور دل سے ہو تو رحمت ہے اور جو زبان اور ہاتھ سے ہو تو وہ شیطان سے ہے۔“ وہ کہتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی قبر کے کنارے رو رہی تھیں اور رسول اللہ ﷺ اپنے ہاتھ سے ان کے چہرے سے آنسو پونچھ رہے تھے یا فرمایا: ”کپڑے سے۔“
اگر یہ قوی نہیں تو جو ثابت کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ آنکھوں کے آنسوؤں اور دل کے غم سے عذاب نہیں دیتا بلکہ عذاب تو اس کی وجہ سے ہوتا ہے اور آپ ﷺ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا یا وہ رحم فرما دے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7160
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أحمد»
حدیث نمبر: 7161
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أنبأ سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ قَالَ: لَمَّا مَاتَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ اجْتَمَعَ نِسْوَةُ بَنِي الْمُغِيرَةِ يَبْكِينَ عَلَيْهِ فَقِيلَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَرْسِلْ إِلَيْهِنَّ فَإِنَّهُنَّ لَا يَبْلُغْكَ عَنْهُنَّ شَيْءٌ تَكْرَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: " مَا عَلَيْهِنَّ أَنْ يَهْرِقْنَ دُمُوعَهُنَّ عَلَى أَبِي سُلَيْمَانَ مَا لَمْ يَكُنْ نَقْعًا أَوْ لَقْلَقَةً ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا شفیق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو بنو مغیرہ کی عورتیں اکٹھی ہوئیں اور ان پر رونے لگیں۔۔۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: ان کی طرف پیغام بھیجو اور انہیں منع کرو۔ ان کی طرف سے تمہیں ایسی کوئی چیز (عمل) نہیں پہنچی جو آپ کو ناپسند ہو، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ان پر کچھ نہیں مگر وہ ابو سلیمان پر آنسو بہا رہی ہیں جب تک آواز یا نوحہ نہ ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7161
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 7162
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ، عَلَيْهَا السَّلَامُ، بَكَتْ أَبَاهَا فَقَالَتْ: " يَا أَبَتَاهُ مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهُ، يَا أَبَتَاهُ إِلَى جَبْرَائِيلَ أَنْعَاهُ، يَا أَبَتَاهُ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ ". زَادَ فِيهِ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ: " يَا أَبَتَاهُ أَجَابَ رَبًّا دَعَاهُ " وَمِنْ ذَلِكَ الْوَجْهِ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے ابا کے بارے میں روئیں اور کہا: ”ہائے میرے ابا کو کتنی تکلیف ہے اور میرے رب کے کس قدر قریب ہیں! ہائے میرے ابا جان کو کتنی تکلیف ہے اور ہم جبرئیل کو اس کی اطلاع کرتے ہیں، ہائے میرے ابا کو کتنی تکلیف ہے اور جنت الفردوس ان کا ٹھکانا ہے“ اور ان الفاظ کا اضافہ بھی کیا گیا ہے کہ ”میرے ابا نے اپنے رب کی پکار کو قبول کر لیا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7162
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري»