السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: سياق أخبار تدل على جواز البكاء بعد الموت. باب: ان احادیث کا بیان جو موت کے بعد رونے کے جواز پر دلالت کرتی ہیں
حدیث نمبر: 7161
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أنبأ سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ قَالَ: لَمَّا مَاتَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ اجْتَمَعَ نِسْوَةُ بَنِي الْمُغِيرَةِ يَبْكِينَ عَلَيْهِ فَقِيلَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَرْسِلْ إِلَيْهِنَّ فَإِنَّهُنَّ لَا يَبْلُغْكَ عَنْهُنَّ شَيْءٌ تَكْرَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: " مَا عَلَيْهِنَّ أَنْ يَهْرِقْنَ دُمُوعَهُنَّ عَلَى أَبِي سُلَيْمَانَ مَا لَمْ يَكُنْ نَقْعًا أَوْ لَقْلَقَةً ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا شفیق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو بنو مغیرہ کی عورتیں اکٹھی ہوئیں اور ان پر رونے لگیں۔۔۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: ان کی طرف پیغام بھیجو اور انہیں منع کرو۔ ان کی طرف سے تمہیں ایسی کوئی چیز (عمل) نہیں پہنچی جو آپ کو ناپسند ہو، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ان پر کچھ نہیں مگر وہ ابو سلیمان پر آنسو بہا رہی ہیں جب تک آواز یا نوحہ نہ ہو۔