السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يرجى في المصيبة بالأولاد إذا احتسبهم باب: اولاد کی مصیبت (وفات) پر ثواب کی نیت رکھنے والے کے لیے جس اجر کی امید کی جاتی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 7142
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، ثنا أَبُو السَّلِيلِ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: مَاتَ لِيَ ابْنَانِ فَهَلْ أَنْتَ مُحَدِّثِي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ تُطَيِّبُ بِهِ أَنْفُسَنَا عَنْ مَوْتَانَا قَالَ: " نَعَمْ صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ يَلْقَى أَحَدُهُمْ أَبَوَيْهِ أَوْ أَبَاهُ فَيَأْخُذُ بِيَدِهِ كَمَا آخُذُ أَنَا بِصَنِفَةِ ثَوْبِكَ هَكَذَا فَلَا يَنْتَهِي حَتَّى يُدْخِلَهُ اللهُ وَإِيَّاهُ الْجَنَّةَ ". ⦗١١٣⦘.حافظ ثناء اللہ
ابو حسان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میرے دو بچے فوت ہو گئے ہیں، سو آپ مجھے اس بارے میں کوئی حدیث سنائیں، جس کی وجہ سے ہمارے دل مردوں کی طرف سے خوش ہو جائیں۔ آپ نے فرمایا: ہاں ہاں! ”ان کے چھوٹے بچے جنت کے پرندے ہیں، ان میں سے ایک اپنے والدین کو ملے گا—یا فرمایا: والد کو ملے گا—اور اس کے ہاتھ کو تھام لے گا، جیسے میں تمہارے کپڑے کو پکڑے ہوئے ہوں، سو وہ اسے نہیں چھوڑے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے گا۔“