کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اولاد کی مصیبت (وفات) پر ثواب کی نیت رکھنے والے کے لیے جس اجر کی امید کی جاتی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 7134
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الذُّهْلِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ، إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَنْ مَالِكٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت فرماتے ہیں: ”کسی مسلمان کے تین بچے فوت نہیں ہوتے کہ اسے آگ چھوئے، یہ ممکن نہیں مگر جو اس کے حصہ میں ہے۔“
حدیث نمبر: 7135
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الَأَدَمِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ. وَزَادَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَغَيْرِهِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
عبد الرزاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں معمر رحمہ اللہ نے خبر دی اور وہ زہری رحمہ اللہ سے اسی معنی میں حدیث روایت کرتے ہیں اور یہ اضافہ کیا کہ اس میں وہ شامل ہیں جو بلوغت کو نہیں پہنچے۔
حدیث نمبر: 7136
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ نِسْوَةً اجْتَمَعْنَ فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللهُ ثُمَّ قَالَ: " مَا مِنْكُنَّ مِنَ امْرَأَةٍ تُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلَاثَةً إِلَّا كَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ ". فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاثْنَيْنِ، قَالَ: " وَاثْنَيْنِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي كَامِلٍ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ وَقَدْ رَوَاهُ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. وَرَوَاهُ شَرِيكٌ عَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةٍ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَعَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ زَادَ سُهَيْلٌ فِي رِوَايَتِهِ فَتَحْتَسِبُهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورتیں اکٹھی ہوئیں، رسول کریم ﷺ ان کے پاس آئے اور آپ ﷺ نے انہیں اس کی تعلیم دی جو اللہ نے آپ ﷺ کو سکھایا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایسی عورت نہیں ہے جس نے اپنے سے آگے تین بچے بھیجے ہوں مگر وہ اسے جہنم کی آگ سے بچانے کے لیے آڑ (پردہ) ہوں گے۔“ تو ایک عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو ہوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو بھی۔“
حدیث نمبر: 7137
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ ⦗١١٢⦘ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أُصِيبَ لَهُ وَلَدَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ فَاحْتَسَبَهُمْ كَانُوا لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے دو بچے یا تین جو بلوغت کو نہیں پہنچے فوت ہو گئے اور اس نے اسے اجر کا باعث سمجھتے ہوئے صبر کیا، تو وہ اس کے لیے جہنم سے آڑ بن جائیں گے۔“
حدیث نمبر: 7138
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِنِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ: " لَا يَمُوتُ لِإِحْدَاكُنَّ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَحْتَسِبَهُمْ إِلَّا دَخَلَتِ الْجَنَّةَ "، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: أَوِ اثْنَيْنِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " أَوِ اثْنَيْنِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انصاری عورتوں سے فرمایا: ”نہیں فوت ہوں گے تم میں سے کسی ایک کے تین بچے اور اس نے اجر کی امید رکھی ہے تو وہ جنت میں داخل ہو گی“ تو ایک عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر دو ہوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو بھی۔“
حدیث نمبر: 7139
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى النَّاقِدُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُتَوَفَّى لَهُ ثَلَاثَةٌ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی مسلمان ایسا نہیں جس کے تین بچے فوت ہوئے جو بالغ نہیں ہوئے مگر اللہ اسے اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کرے گا۔“
حدیث نمبر: 7140
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ. إِلَّا أَنَّهُ " قَالَ: " بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالوارث رحمہ اللہ اسی معنی میں حدیث نقل فرماتے ہیں، مگر انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپنی خاص رحمت کے فضل سے۔
حدیث نمبر: 7141
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو سَعِيدٍ مَسْعُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُرْجَانِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَيْمُونِيُّ، بِالرَّقَّةِ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَدِّهِ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ دَفَنْتُ ثَلَاثَةً مِنْ وَلَدِي فَقَالَ: " لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے تین بچے دفن کیے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے اپنے لیے دوزخ کی آگ سے بہت بڑی دیوار بنا لی اور مضبوط دیوار قائم کرلی۔“
حدیث نمبر: 7142
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، ثنا أَبُو السَّلِيلِ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: مَاتَ لِيَ ابْنَانِ فَهَلْ أَنْتَ مُحَدِّثِي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ تُطَيِّبُ بِهِ أَنْفُسَنَا عَنْ مَوْتَانَا قَالَ: " نَعَمْ صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ يَلْقَى أَحَدُهُمْ أَبَوَيْهِ أَوْ أَبَاهُ فَيَأْخُذُ بِيَدِهِ كَمَا آخُذُ أَنَا بِصَنِفَةِ ثَوْبِكَ هَكَذَا فَلَا يَنْتَهِي حَتَّى يُدْخِلَهُ اللهُ وَإِيَّاهُ الْجَنَّةَ ". ⦗١١٣⦘.
حافظ ثناء اللہ
ابو حسان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میرے دو بچے فوت ہو گئے ہیں، سو آپ مجھے اس بارے میں کوئی حدیث سنائیں، جس کی وجہ سے ہمارے دل مردوں کی طرف سے خوش ہو جائیں۔ آپ نے فرمایا: ہاں ہاں! ”ان کے چھوٹے بچے جنت کے پرندے ہیں، ان میں سے ایک اپنے والدین کو ملے گا—یا فرمایا: والد کو ملے گا—اور اس کے ہاتھ کو تھام لے گا، جیسے میں تمہارے کپڑے کو پکڑے ہوئے ہوں، سو وہ اسے نہیں چھوڑے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے گا۔“
حدیث نمبر: 7143
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاتِمٍ الدَّارَبَرْدِيُّ بِمَروٍ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنِ التَّيْمِيِّ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى وَغَيْرِهِ عَنْ مُعْتَمِرٍ وَعَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ تیمی رحمہ اللہ سے اسی معنی میں حدیث منقول ہے، مگر یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے چھوٹے بچے جنت کے پرندے ہیں۔“
حدیث نمبر: 7144
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُمُ اللهُ وَأَبَوَيْهِمُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ "، قَالَ: " وَيَكُونُونَ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، فَيُقَالُ لَهُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ، فَيَقُولُونَ حَتَّى يَجِئَ أَبَوَانَا، فَيُقَالُ لَهُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَأَبَوَاكُمْ بِفَضْلِ رَحْمَةِ اللهِ ". وَالْأَخْبَارُ فِي هَذَا الْبَابِ كَثِيرَةٌ وَفِيمَا ذَكَرْنَا كِفَايَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا کوئی مسلمان نہیں جس کے تین بچے فوت ہوئے ہوں جو ابھی بالغ نہیں ہوئے تھے مگر اس شخص کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل فرمائیں گے اور انہیں بھی اپنے فضل و رحمت سے۔ وہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر ہوں گے، ان سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ تو وہ کہیں گے: جب تک ہمارے والدین نہ آ جائیں۔ پھر ان سے کہا جائے گا: تم اور تمہارے والدین بھی اللہ کے فضل و رحمت سے داخل ہو جاؤ۔“
حدیث نمبر: 7145
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا الْإِمَامُ أَبُو الطِّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا الْإِمَامُ وَالِدِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الثَّقَفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَعُدُّونَ الرَّقُوبُ فِيكُمْ "، قَالُوا: هُوَ الَّذِي لَا يُولَدُ لَهُ قَالَ: " لَيْسَ ذَاكَ بِالرَّقُوبِ وَلَكِنَّهُ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يُقَدِّمْ مِنْ وَلَدِهِ شَيْئًا "، قَالَ: " فَمَا تَعُدُّونَ الصُّرَعَةَ فِيكُمْ؟ " قَالُوا: الَّذِي لَا تَصْرَعُهُ الرِّجَالُ، قَالَ: " لَيْسَ بِذَاكَ وَلَكِنَّهُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ " لَفْظُ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ تَقْدِيمٌ وَتَأْخِيرٌ قَالَ أَوَّلًا: " مَا تَعُدُّونَ فِيكُمُ الصُّرَعَةَ " قَالُوا: الَّذِي لَا تَصْرَعُهُ الرِّجَالُ قَالَ: " لَا وَلَكِنَّ الصُّرَعَةَ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ " قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَا تَعُدُّونَ فِيكُمُ الرَّقُوبَ؟ " قَالَ: قُلْنَا الرَّقُوبُ: الَّذِي لَا يُولَدُ لَهُ، قَالَ: " لَا وَلَكِنَّ الرَّقُوبَ الَّذِي لَمْ يُقَّدِمْ مِنْ وَلَدِهِ شَيْئًا "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَعَنْ قُتَيْبَةَ، وَعُثْمَانَ عَنْ جَرِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے میں «الرَّقُوبُ» (گردنیں) کسے شمار کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: وہ جس کی اولاد نہ ہو، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ «الرَّقُوبُ» نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی اولاد میں سے کوئی آگے نہ گیا ہو۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم «الصُّرَعَةُ» (بہادر) کسے خیال کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: جسے لوگ گرا نہ سکیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ نہیں، بلکہ بہادر وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھتا ہے۔“
حدیث نمبر: 7146
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ قَالَ: دَفَنْتُ ابْنِي سِنَانًا وَأَبُو طَلْحَةَ الْخَوْلَانِيُّ جَالِسٌ ⦗١١٤⦘ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ فَقَالَ: حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَبَضَ اللهُ ابْنَ الْعَبْدِ، قَالَ: لِمَلَائِكَتِهِ مَا قَالَ عَبْدِي؟ قَالُوا: حَمِدَكَ وَاسْتَرْجَعَ، قَالَ: ابْنُوا لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَسَمُّوهُ بَيْتَ الْحَمْدِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ انسان کے بیٹے کو فوت کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے کیا کہا؟ تو وہ کہتے ہیں: اس نے تیری حمد کی اور «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں“ پڑھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اس کے لیے جنت میں ایک گھر بناؤ اور اس کا نام «بَيْتُ الْحَمْدِ» ”بیت الحمد“ رکھو۔“
حدیث نمبر: 7147
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ الْكَرْمَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الْكَرْمَانِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ بَارِقٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي سِمَاكُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحَنَفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ كَانَ لَهُ فَرَطَانِ مِنَ أُمَّتِي أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: وَوَاحِدَةٌ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " وَوَاحِدَةٌ يَا مُوَفَّقَةُ "، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مِنْ أُمَّتِي فَرَطٌ فَأَنَا فَرَطُ مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَطٌ لَمْ يُصَابُوا بِمِثْلِي "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ: ”جس کے دو بیٹے ہوں اور وہ فوت ہو گئے ہوں تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کریں گے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ایک بھی؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک بھی۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں سے جس کے لیے ایسا بچہ نہیں جو آگے گیا ہو تو میں اس کا پیش رو ہوں، اور جس کا بچہ (فوت) نہ ہوا ہو میں اس کا حوض پر پہلے پہنچنے والا ہوں اور وہ میرے جیسا نہیں پائیں گے۔“
حدیث نمبر: 7148
وَحَدَّثَنَا الْإِمَامُ أَبُو الطِّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيٍّ الدَّقَاقُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ، ثنا عَبْدُ رَبِّهِ بَارِقٌ الْحَنَفِيُّ فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
عبد ربہ بن بارق حنفی رحمہ اللہ سے اسی معنی میں روایت منقول ہے۔