السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يرجى في المصيبة بالأولاد إذا احتسبهم باب: اولاد کی مصیبت (وفات) پر ثواب کی نیت رکھنے والے کے لیے جس اجر کی امید کی جاتی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 7141
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو سَعِيدٍ مَسْعُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُرْجَانِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَيْمُونِيُّ، بِالرَّقَّةِ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَدِّهِ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ دَفَنْتُ ثَلَاثَةً مِنْ وَلَدِي فَقَالَ: " لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے تین بچے دفن کیے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے اپنے لیے دوزخ کی آگ سے بہت بڑی دیوار بنا لی اور مضبوط دیوار قائم کرلی۔“