حدیث نمبر: 7091
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: " لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَتِ التَّعْزِيَةُ سَمِعُوا قَائِلًا يَقُولُ: إِنَّ فِي اللهِ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ، وَخَلَفًا مِنْ كُلِّ هَالِكٍ، وَدَرَكًا مِنْ كُلِّ مَا فَاتَ فَبِاللهِ فَثِقُوا، وَإِيَّاهُ فَارْجُوا فَإِنَّ الْمُصَابَ مَنْ حُرِمَ الثَّوَابَ " وَقَدْ رُوِيَ مَعْنَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، وَمِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَفِي أَسَانِيدِهِ ضَعْفٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے اور وہ اپنے دادا رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ ﷺ فوت ہوئے تو تعزیت کرنے والے آئے، انہوں نے ایک کہنے والے کو سنا جو کہہ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر مصیبت میں ہمدردی ہوتی ہے اور ہر ہلاکت کے بعد بدل ہوتا ہے اور ہر چیز کے چھن جانے کے بعد ادراک ہوتا ہے، سو تم اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ وابستہ رہو اور اسی سے امید رکھو، بے شک مصیبت زدہ تو وہ ہے جو ثواب سے محروم کر دیا گیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7091
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جداً
تخریج حدیث «ضعيف جداً۔ أخرجه الحاكم»