❮
❯
حدیث نمبر: 7064
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَاللَّفْظُ لِتَمْتَامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَحِيرٍ، عَنْ هَانِئٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا وَقَفَ عَلَى قَبْرٍ بَكَى حَتَّى يَبُلَّ لِحْيَتَهُ، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: تَذْكُرُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ فَلَا تَبْكِي وَتَبْكِي مِنْ هَذَا؟ قَالَ: فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " ⦗٩٣⦘ إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ فَمَنْ نَجَا مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ وَمَنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ " ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے غلام ہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ قبر پر کھڑے ہوتے تو اتنا روتے کہ داڑھی مبارک تر ہو جاتی، کہا گیا کہ آپ کے پاس جنت اور دوزخ کا تذکرہ ہوتا ہے آپ نہیں روتے مگر قبر کے تذکرے سے کیوں روتے ہو؟ تو وہ فرماتے: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ ”قبر آخرت کی پہلی منزل ہے، جو اس سے نجات پا گیا بعد والی منازل اس کے لیے آسان ہو جائیں گی اور جو کوئی اس سے نجات حاصل نہ کر سکا تو اس کے بعد کی منازل بہت مشکل ہوں گی“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7064
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ ترمذي»