السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يقال إذا أدخل الميت قبره باب: جب میت کو اس کی قبر میں اتارا جائے تو جو کلمات کہے جائیں گے ان کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزَّاهِدُ يَعْنِي أَبَا عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا الْبِرْتِيُّ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ النَّخَعِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ أَدْخَلَ مَيِّتًا فِي قَبْرِهِ فَقَالَ: " اللهُمَّ عَبْدُكَ، ابْنُ عَبْدِكَ نَزَلَ بِكَ وَأَنْتَ خَيْرُ مَنْزُولٍ بِهِ وَلَا نَعْلَمُ بِهِ إِلَّا خَيْرًا وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ، كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْفِرْ لَهُ ذَنْبَهَ وَوَسِّعْ لَهُ فِي مُدْخَلِهِ ".عمیر بن سعید نخعی فرماتے ہیں کہ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انہوں نے ایک میت کو قبر میں داخل کیا اور فرمایا: «اللَّهُمَّ عَبْدُكَ ابْنُ عَبْدِكَ نَزَلَ بِكَ وَأَنْتَ خَيْرُ مَنْزُولٍ بِهِ، وَلَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ، كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَاغْفِرْ لَهُ ذَنْبَهُ وَوَسِّعْ لَهُ فِي مُدْخَلِهِ» ”اے اللہ! یہ تیرا بندہ تیرے بندے کا بیٹا تیرے پاس آیا ہے اور تو بہترین مہمان نواز ہے، ہم نہیں جانتے اس کے لیے مگر بھلائی اور تو بہتر جانتا ہے کہ وہ گواہی دیتا تھا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں صرف تو ہی ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور تو اس کے گناہ بخش دے اور اس کی قبر کو کشادہ کر دے۔“