السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الميت يدخله قبره الرجال ومن يكون منهم أفقه وأقرب بالميت رحما باب: میت کو قبر میں مرد حضرات اتاریں گے اور ان میں سے جو زیادہ فقیہ اور میت کا زیادہ قریبی رشتہ دار ہو (وہ زیادہ حق دار ہے)
حدیث نمبر: 7048
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَبَّرَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ أَرْبَعًا، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُدْخِلُ هَذِهِ قَبْرَهَا؟ فَقُلْنَ: مَنْ كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا فِي حَيَاتِهَا وَرُوِّينَاهُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ فَزَادَ فِيهِ وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعْجِبُهُ أَنْ يُدْخِلَهَا قَبْرَهَا فَلَمَّا قُلْنَ مَا قُلْنَ قَالَ: " صَدَقْنَ ".حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا پر چار تکبیرات کہیں، پھر ازواجِ نبی ﷺ کی طرف پیغام بھیجا کہ اسے قبر میں کون اتارے؟ تو انہوں نے کہا: جو ان کی زندگی میں ان کے پاس آتا تھا۔
یعلیٰ بن عبید اسماعیل سے نقل فرماتے ہیں اور اس میں یہ بات زیادہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ پسند کرتے تھے کہ وہ انہیں قبر میں داخل کریں، سو جب انہوں نے کہا جو کہا: تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا انہوں نے سچ کہا۔