السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الميت يدخله قبره الرجال ومن يكون منهم أفقه وأقرب بالميت رحما باب: میت کو قبر میں مرد حضرات اتاریں گے اور ان میں سے جو زیادہ فقیہ اور میت کا زیادہ قریبی رشتہ دار ہو (وہ زیادہ حق دار ہے)
حدیث نمبر: 7047
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: شَهِدْنَا ابْنَةً لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ فَقَالَ: " هَلْ فِيكُمْ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يُقَارِفِ اللَّيْلَةَ؟ " فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَبُو ذَرٍّ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " فَانْزِلْ فِي قَبْرِهَا " قَالَ فُلَيْحٌ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِي الذَّنْبَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کی ایک بیٹی (کی تدفین) پر حاضر ہوئے اور رسول اللہ ﷺ قبر پر بیٹھے ہوئے تھے، میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں کوئی ایسا آدمی ہے جس نے آج رات (کسی چیز کا) ارتکاب نہ کیا ہو؟“ تو سیدنا ابو طلحہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس کی قبر میں اتر۔“ فلیح کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ اس سے مراد گناہ ہے۔