حدیث نمبر: 7047
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: شَهِدْنَا ابْنَةً لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ فَقَالَ: " هَلْ فِيكُمْ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يُقَارِفِ اللَّيْلَةَ؟ " فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَبُو ذَرٍّ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " فَانْزِلْ فِي قَبْرِهَا " قَالَ فُلَيْحٌ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِي الذَّنْبَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور پوچھا: یہ کون سی حدیث ہے جو آپ بیان کرتے ہیں؟ آپ کہتے ہیں کہ قیامت فلاں فلاں وقت تک قائم ہو جائے گی؟ تو انہوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللهِ» ”اللہ پاک ہے“ - یا «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ یا اسی طرح کا کوئی کلمہ کہا - میرا تو یہ ارادہ تھا کہ اب کبھی کسی سے کوئی بات بیان نہ کروں، میں نے تو صرف یہ کہا تھا کہ تم عنقریب ایک بڑا معاملہ دیکھو گے، بیت اللہ کو جلا دیا جائے گا، اور ایسا ایسا ہوگا، پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں دجال نکلے گا اور وہ چالیس - مجھے معلوم نہیں کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال - تک رہے گا، پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو مبعوث فرمائے گا، وہ (حلیے میں) عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرح ہوں گے، وہ اسے تلاش کریں گے اور اسے ہلاک کر دیں گے، پھر لوگ سات سال تک اس طرح رہیں گے کہ دو آدمیوں کے درمیان کوئی دشمنی نہیں ہوگی، پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا، تو روئے زمین پر کوئی ایسا شخص باقی نہیں رہے گا جس کے دل میں ایک ذرہ برابر بھی خیر یا ایمان ہو مگر وہ ہوا اس کی روح قبض کر لے گی، یہاں تک کہ اگر تم میں سے کوئی پہاڑ کے اندرونی حصے میں بھی داخل ہو جائے گا تو وہ ہوا وہاں بھی پہنچ کر اس کی روح قبض کر لے گی“، انہوں نے کہا: میں نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جن کی تیزی پرندوں جیسی اور عقلیں درندوں جیسی ہوں گی، وہ نہ کسی نیکی کو پہچانیں گے اور نہ کسی برائی کا انکار کریں گے، پھر شیطان ان کے سامنے ایک صورت بنا کر آئے گا اور کہے گا: کیا تم (میری بات) قبول نہیں کرو گے؟ وہ کہیں گے: تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے؟ تو وہ انہیں بتوں کی پوجا کرنے کا حکم دے گا، اور اس حال میں ان کا رزق فراواں ہوگا اور ان کی زندگی خوشحال ہوگی، پھر صور پھونکا جائے گا، جو بھی اسے سنے گا وہ اپنی گردن کا ایک پہلو جھکا دے گا اور دوسرا پہلو اٹھا دے گا، اور سب سے پہلے اسے وہ شخص سنے گا جو اپنے اونٹوں کا حوض درست کر رہا ہوگا، پس وہ بیہوش ہو جائے گا اور تمام لوگ بیہوش ہو جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا - یا فرمایا: بارش بھیجے گا - جو شبنم کی طرح ہوگی - یا سائے کی طرح (راوی نعمان کو شک ہے) - جس سے لوگوں کے اجسام اگ آئیں گے، پھر دوبارہ اس میں صور پھونکا جائے گا تو اچانک وہ کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہوں گے، پھر کہا جائے گا: اے لوگو! اپنے رب کی طرف آؤ، ﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ﴾ [سورة الصافات: 24]، پھر کہا جائے گا: جہنم کا لشکر نکالو، پوچھا جائے گا: کتنوں میں سے؟ کہا جائے گا: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے، یہی وہ دن ہے جو ﴿يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا﴾ [سورة المزمل: 17] اور جس دن ﴿يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ﴾ [سورة القلم: 42]“۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7047