حدیث نمبر: 7019
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ بَعْضَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَعُودُ مَرْضَى مَسَاكِينِ الْمُسْلِمِينَ، وَضُعَفَاءَهَمْ وَيَتْبَعُ جَنَائِزَهَمْ وَلَا يُصَلِّي عَلَيْهِمْ أَحَدٌ غَيْرَهُ، وَأَنَّ امْرَأَةً مِسْكِينَةً مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي طَالَ سَقَمُهَا، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ عَنْهَا مَنْ حَضَرَهَا مِنْ جِيرَانِهَا، وَأَمَرَهُمْ أَنْ لَا يَدْفِنُوهَا إِنْ حَدَثَ بِهَا حَدَثٌ، فَيُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَتُوُفِّيَتْ تِلْكَ الْمَرْأَةُ لَيْلًا وَاحْتَمَلُوهَا فَأَتَوْا بِهَا مَع الْجَنَائِزَ أَوْ قَالَ مَوْضِعَ الْجَنَائِزِ عِنْدَ مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَمَرَهُمْ، فَوَجَدُوهُ قَدْ نَامَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ، فَكَرِهُوا أَنْ يُهْجِدُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمِهِ فَصَلَّوْا عَلَيْهَا، ثُمَّ انْطَلَقُوا بِهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ عَنْهَا مَنْ حَضَرَهُ مِنْ جِيرَانِهَا، فَأَخْبَرُوهُ خَبَرَهَا وَأَنَّهُمْ كَرِهُوا أَنْ يُهْجِدُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَلِمَ فَعَلْتُمْ؟ انْطَلِقُوا " فَانْطَلَقُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ⦗٨٠⦘ قَامُوا عَلَى قَبْرِهَا، فَصَفُّوا وَرَاءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يُصَفُّ لِلصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَائِزِ، فَصَلَّى عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا كَمَا يُكَبِّرُ عَلَى الْجَنَائِزِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابو امامہ سہل بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیمار و مسکین مسلمانوں کی اور کمزوروں کی عیادت کرتے تھے اور ان کے جنازوں کے ساتھ جاتے۔ آپ ﷺ کے سوا کوئی جنازہ نہ پڑھتا۔ ایک مسکین عورت جو مدینہ کے اطراف میں رہتی تھی اس کی بیماری لمبی ہوگئی۔ آپ ﷺ اس کے بارے میں اس سے پوچھتے جو کوئی اس کے ہمسائے سے آتا اور آپ ﷺ فرماتے: ”اگر وہ فوت ہوجائے تو مجھے بتائے بغیر دفن نہ کریں، تاکہ اس کا جنازہ پڑھیں۔“ رات میں یہ عورت فوت ہوگئی تو انہوں نے اسے اٹھایا اور جنازے کو ساتھ لائے یا جنازے کی جگہ آئے۔ رسول اللہ ﷺ کی مسجد کے پاس لائے تاکہ رسول اللہ ﷺ اس کا جنازہ پڑھیں جیسے آپ ﷺ نے ان سے کہا تھا۔ انہوں نے پایا کہ آپ ﷺ عشا کی نماز کے بعد سو چکے ہیں تو انہوں نے آپ ﷺ کو بیدار کرنا پسند نہ کیا اور جنازہ پڑھا دیا اور چل دیے۔ جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے اس کے بارے میں ان سے پوچھا جو ان کے پڑوسی آئے تو انہوں نے آپ ﷺ کو اس کی خبر دی اور بتایا کہ آپ ﷺ کو بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے ایسا کیوں کیا؟ چلو میرے ساتھ۔“ تو وہ آپ ﷺ کے ساتھ چل دیے حتیٰ کہ اس کی قبر پر کھڑے ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کے پیچھے صف بنائی جیسے نمازِ جنازہ کے لیے صف بندی کی جاتی تھی۔ پھر آپ ﷺ نے جنازہ پڑھا اور چار تکبیرات کہیں جیسے جنازے پر تکبیرات کہتے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7019
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ نسائي»