السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الصلاة على القبر بعدما يدفن الميت باب: میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پر نمازِ جنازہ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 7020
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَخُو خَطَّابٍ، ثنا ابْنُ حُمَيْدٍ، ثنا مِهْرَانُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا أَبُو سِنَانٍ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَرَّ عَلَى قَبْرٍ جَدِيدٍ حَدِيثِ عَهْدِ بِدَفْنٍ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: " قَبْرُ مَنْ هَذَا "، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذِهِ أُمُّ مِحْجَنٍ كَانَتْ مُولَعَةً بِلَقْطِ الْقَذَى مِنَ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: " أَفَلَا آذَنْتُمُونِي "، فَقَالُوا: كُنْتَ نَائِمًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُهِيجَكَ، قَالَ: " فَلَا تَفْعَلُوا فَإِنَّ صَلَاتِي عَلَى مَوْتَاكُمْ نُورٌ لَهُمْ فِي قُبُورِهِمْ "، قَالَ: فَصَفَّ أَصْحَابَهُ، فَصَلَّى عَلَيْهَا. قَالَ: أَبُو سِنَانٍ: فَعَرَضْتُ هَذَا الْحَدِيثَ عَلَى عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، فَقَالَ: إِنَّ أَبَا مُوسَى وَأَصْحَابَهُ: صَلَّوْا عَلَى قَبْرٍ بَعْدَ مَا دُفِنَ، وَقَالَ: أَلَا سَبَقَ الْقَوْمُ بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ.حافظ ثناء اللہ
ابن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک نئی قبر کے پاس سے گزرے اور آپ کے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ قبر کس کی ہے؟“ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ ام محجن کی ہے جو مسجد کی صفائی کیا کرتی تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے مجھے کیوں نہ بتایا؟“ انہوں نے کہا: آپ سو رہے تھے، ہم نے آپ کو بیدار کرنا اچھا نہ سمجھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کیا کرو، میری نماز مردوں کی قبروں میں نور کا باعث ہے۔“ چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے صفیں بنائیں اور آپ ﷺ نے اس کا جنازہ پڑھا۔