حدیث نمبر: 7018
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ عَوْنٍ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَقِيعِ فَرَأَى قَبْرًا جَدِيدًا، فَسَأَلَ عَنْهُ فَذُكِرَ لَهُ فَعَرَفَهُ، فَقَالَ: " أَلَا آذَنْتُمُونِي "، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ كُنْتَ قَائِلًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُؤْذِيَكَ، فَقَالَ: " لَا تَفْعَلُوا لَا أَعْرِفَنَّ مَا مَاتَ مِنْكُمْ مَيِّتٌ مَا دُمْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ إِلَّا آذَنْتُمُونِي فَإِنَّ صَلَاتِي عَلَيْهِ رَحْمَةٌ "، ثُمَّ أَتَى الْقَبْرَ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَصَفَّنَا عَلَيْهِ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا وَرُوِيَ فِيهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَبُرَيْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ

یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنت البقیع کی طرف نکلے، آپ ﷺ نے ایک نئی قبر دیکھی تو اس کے متعلق پوچھا۔ صحابہ نے بتایا تو آپ ﷺ نے پہچان لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے مجھے کیوں نہ بتایا؟“ عرض کیا گیا کہ آپ ﷺ سو رہے تھے، سو ہم نے آپ ﷺ کو تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو کیونکہ جب میں تم میں موجود نہیں ہوتا تو میں اسے نہیں جانتا جو تم میں سے فوت ہو گیا حتیٰ کہ تم مجھے اطلاع نہ کرو، میری دعا اس کے لیے باعثِ رحمت ہوتی ہے۔“ پھر آپ ﷺ قبر پر آئے اور جنازہ پڑھا، ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے صفیں بنائیں اور آپ ﷺ نے چار تکبیرات کہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7018
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ معنيٰ تخريجه»