السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الصلاة على القبر بعدما يدفن الميت باب: میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پر نمازِ جنازہ پڑھنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ عَوْنٍ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَقِيعِ فَرَأَى قَبْرًا جَدِيدًا، فَسَأَلَ عَنْهُ فَذُكِرَ لَهُ فَعَرَفَهُ، فَقَالَ: " أَلَا آذَنْتُمُونِي "، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ كُنْتَ قَائِلًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُؤْذِيَكَ، فَقَالَ: " لَا تَفْعَلُوا لَا أَعْرِفَنَّ مَا مَاتَ مِنْكُمْ مَيِّتٌ مَا دُمْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ إِلَّا آذَنْتُمُونِي فَإِنَّ صَلَاتِي عَلَيْهِ رَحْمَةٌ "، ثُمَّ أَتَى الْقَبْرَ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَصَفَّنَا عَلَيْهِ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا وَرُوِيَ فِيهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَبُرَيْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنت البقیع کی طرف نکلے، آپ ﷺ نے ایک نئی قبر دیکھی تو اس کے متعلق پوچھا۔ صحابہ نے بتایا تو آپ ﷺ نے پہچان لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے مجھے کیوں نہ بتایا؟“ عرض کیا گیا کہ آپ ﷺ سو رہے تھے، سو ہم نے آپ ﷺ کو تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، جب تک میں تمہارے درمیان موجود ہوں، میں یہ نہ پاؤں کہ تم میں سے کوئی فوت ہو جائے اور تم مجھے اطلاع نہ دو، کیونکہ میری دعا اس کے لیے باعثِ رحمت ہوتی ہے۔“ پھر آپ ﷺ قبر پر آئے اور جنازہ پڑھا، ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے صفیں بنائیں اور آپ ﷺ نے چار تکبیرات کہیں۔