السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الصلاة على القبر بعدما يدفن الميت باب: میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پر نمازِ جنازہ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 7014
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ، فَمَاتَتْ فَفَقَدَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَنْهَا بَعْدَ أَيَّامٍ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهَا مَاتَتْ، فَقَالَ: " هَلَّا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي "، فَأَتَى قَبْرَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا زَادَ ابْنُ عَبْدَةَ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ: وَأَنْبَأَ حَمَّادٌ، ثنا ثَابِتٌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا بِصَلَاتِي عَلَيْهَا ".حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک کالی عورت مسجد کی خدمت کیا کرتی تھی، وہ فوت ہوگئی۔ جب آپ ﷺ نے اسے نہ پایا تو اس کے متعلق صحابہ سے پوچھا، آپ سے کہا گیا کہ وہ فوت ہوگئی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے مجھے کیوں نہ خبر دی۔“ پھر آپ ﷺ اس کی قبر پر آئے اور جنازہ پڑھا۔
ابن عبدہ نے اپنی حدیث میں اضافہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ہمیں حماد نے خبر دی کہ ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اہلِ قبور کے لیے یہ قبریں اندھیرے سے بھری ہوتی ہیں مگر اللہ سبحانہ میری نماز کی وجہ سے انھیں روشن کردیتا ہے۔“