السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الصلاة على القبر بعدما يدفن الميت باب: میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پر نمازِ جنازہ پڑھنے کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا ثَابِتٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ إِنْسَانًا كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ أَسْوَدُ، قَالَ: فَمَاتَ أَوْ مَاتَتْ فَفَقَدَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا فَعَلَ الْإِنْسَانُ الَّذِي كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ "، فَقِيلَ: مَاتَ، قَالَ: " فَهَلَّا آذَنْتُمُونِي بِهِ "، فَقَالُوا: إِنَّهُ كَانَ لَيْلًا، قَالَ: " فَدُلُّونِي عَلَى قَبْرِهَا "، قَالَ: فَأَتَى الْقَبْرَ فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ ثَابِتٌ عِنْدَ ذَاكَ أَوْ فِي حَدِيثٍ آخَرَ: " إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا وَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يُنَوِّرُهَا بِصَلَاتِي عَلَيْهَا ". وَالَّذِي يَغْلِبُ عَلَى الْقَلْبِ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الزِّيَادَةُ فِي غَيْرِ رِوَايَةِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَإِمَّا أَنْ تَكُونَ عَنْ ثَابِتٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلَةٌ، كَمَا رَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ وَمَنْ تَابَعَهُ، أَوْ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا رَوَاهُ خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ حَمَّادٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ فَلَمْ يَذْكُرْهَا.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد کی صفائی کیا کرتا تھا، وہ فوت ہو گیا یا (وہ عورت) فوت ہو گئی۔ جب آپ ﷺ نے اسے نہ پایا تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اس انسان نے کیا کیا؟ جو مسجد کی خدمت کیا کرتا تھا۔“ عرض کیا گیا کہ وہ فوت ہو چکا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے مجھے کیوں نہ بتایا؟“ انہوں نے کہا کہ رات تھی اس لیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اس کی قبر بتاؤ۔“ آپ ﷺ اس کی قبر پر آئے اور جنازہ پڑھا۔ پھر ثابت رحمہ اللہ نے یہ بات بھی بیان کی کہ (آپ ﷺ نے فرمایا:) ”یہ قبریں اندھیرے سے بھری ہوتی ہیں، اللہ تعالیٰ میری دعا سے انہیں منور کر دیتا ہے۔“
غالب گمان یہ ہے کہ یہ اضافہ ابو رافع عن ابوہریرہ کی روایت کا حصہ نہیں ہے، بلکہ یا تو یہ ثابت سے نبی کریم ﷺ سے مرسلاً منقول ہے، جیسا کہ احمد بن عبدہ اور ان کی متابعت کرنے والوں نے روایت کیا ہے، یا ثابت عن انس عن النبی ﷺ منقول ہے، جیسا کہ خالد بن خداش نے روایت کیا ہے۔ حماد کے علاوہ دوسروں نے بھی اسے ثابت عن ابو رافع روایت کیا ہے اور اس اضافے کا ذکر نہیں کیا۔