حدیث نمبر: 7013
أَخْبَرَنَا أَبُو الْخَيْرِ جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ ثنا أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، ثنا عُثْمَانُ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ. زَادَ فَكَأَنَّهُمْ صَغَّرُوا مِنْ أَمْرِهَا أَوْ مِنْ أَمْرِهِ فَقَالَ: " دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهَا "، فَأَتَى قَبْرَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا بِصَلَاتِي عَلَيْهَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كَامِلٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ وَذَكَرَ هَذِهِ الزِّيَادَةَ.
حافظ ثناء اللہ

مسدد فرماتے ہیں: ہمیں حماد بن مسدد نے اسی سند کے ساتھ اسی معنی میں حدیث بیان کی اور یہ لفظ زیادہ بیان کیے۔ گویا صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کے معاملے کو معمولی جانا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اس کی قبر بتاؤ“، پھر آپ ﷺ اس کی قبر پر آئے اور جنازہ پڑھا۔ پھر فرمایا: ”یہ قبریں قبر والوں کے لیے اندھیرے سے بھری ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ میری دعا سے انہیں روشن کر دیتا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7013
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري»