السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب اشتراط الدباغ في طهارة جلد ما لا يؤكل لحمه وإن ذكي باب: جس جانور کا گوشت نہیں کھایا جاتا اسے شرعی طور پر ذبح کیے جانے کے باوجود اس کا چمڑا پاک ہونے کے لیے دباغت کی شرط کا بیان
حدیث نمبر: 70
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ الْهُذَلِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " دِبَاغُ الْأَدِيمِ ذَكَاتُهُ " وَفِي قِصَّةِ الْحَدِيثِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ فِي جِلْدِ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ. وَفِي طُرُقِهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِالذَّكَاةِ طَهَارَتُهُ. وَفِي رِوَايَةِ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ دَعَا بِمَاءٍ مِنْ عِنْدِ امْرَأَةٍ فَقَالَتْ: مَا عِنْدِي إِلَّا فِي قِرْبَةٍ لِي مَيِّتَةٍ. فَقَالَ: " أَلَيْسَ قَدْ دَبَغْتِهَا ". قَالَتْ: بَلَى. قَالَ: " فَإِنَّ ذَكَاتَهَا دِبَاغُهَا ".حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا سلمہ بن محبق ہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”چمڑے کو رنگ دینا اس کا پاک کرنا ہے۔“
اس حدیث میں حلال جانوروں کی کھال کے پاک ہونے کا ذکر ہے۔ اس کے طرق اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ «ذَكَاة» سے مراد طہارت ہے۔
(ب) معاذ بن ہشام رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ایک عورت سے پانی مانگا تو اس نے کہا: میرے پاس مردار کے چمڑے کا بنا ہوا مشکیزہ ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے اسے رنگا نہیں تھا؟“ اس عورت نے کہا: کیوں نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا پاک کرنا اس کا رنگنا ہی ہے۔“