السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب اشتراط الدباغ في طهارة جلد ما لا يؤكل لحمه وإن ذكي باب: جس جانور کا گوشت نہیں کھایا جاتا اسے شرعی طور پر ذبح کیے جانے کے باوجود اس کا چمڑا پاک ہونے کے لیے دباغت کی شرط کا بیان
حدیث نمبر: 69
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى بَيْتٍ قُدَّامُهُ قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّرَابَ فَقَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ. فَقَالَ: " ذَكَاتُهَا دِبَاغُهَا ". فَهَكَذَا رَوَاهُ عَفَّانُ بْنُ ⦗٣٣⦘ مُسْلِمٍ. وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى، قَالَ: " دِبَاغُهَا طَهُورُهَا ". وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَرَوَاهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ گھر آئے تو آپ ﷺ کے سامنے مشکیزہ لٹک رہا تھا، نبی ﷺ نے پانی طلب کیا تو انہوں نے کہا: وہ تو مردار کے چمڑے کا بنا ہوا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا پاک کرنا اس کی دباغت ہے۔“
ہمام بن یحییٰ نے کہا کہ اس کی دباغت ہی اس کو پاک کرنا ہے۔