السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يستدل به على أن أكثر الصحابة اجتمعوا على أربع ورأى بعضهم الزيادة منسوخة باب: اس بات کے دلائل کا بیان کہ اکثر صحابہ کرام چار تکبیروں پر متفق ہو گئے تھے اور ان میں سے بعض نے اس پر اضافے کو منسوخ سمجھا ہے
حدیث نمبر: 6951
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَلَى أُمِّهِ فَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا وَرُوِّينَا عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّهُ كَبَّرَ عَلَى أُمِّهِ أَرْبَعًا وَمَا حَسَدَهَا خَيْرًا.حافظ ثناء اللہ
ثابت بن عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی والدہ کا جنازہ پڑھا، انہوں نے اس پر چار تکبیرات کہیں۔ امام شعبی رحمہ اللہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنی والدہ پر چار تکبیرات کہیں۔