السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يستدل به على أن أكثر الصحابة اجتمعوا على أربع ورأى بعضهم الزيادة منسوخة باب: اس بات کے دلائل کا بیان کہ اکثر صحابہ کرام چار تکبیروں پر متفق ہو گئے تھے اور ان میں سے بعض نے اس پر اضافے کو منسوخ سمجھا ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ أَبِي يَحْيَى النَّخَعِيِّ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى ابْنِ الْمُكَفَّفِ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا، ثُمَّ أَتَى قَبْرَهَ، فَقَالَ: " اللهُمَّ عَبْدُكَ وَوَلَدُ عَبْدِكَ نَزَلَ بِكَ وَأَنْتَ خَيْرُ مَنْزُولٍ بِهِ، اللهُمَّ وَسِّعْ لَهُ مُدْخَلَهُ، وَاغْفِرْ لَهُ ذَنْبَهُ فَإِنَّا لَا نَعْلَمُ بِهِ إِلَّا خَيْرًا، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ ".عمیر بن سعید فرماتے ہیں: میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے ابن مکفف کا جنازہ پڑھا اور انہوں نے چار تکبیرات کہیں، پھر اس کی قبر پر آئے اور کہا: «اَللّٰهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ، نَزَلَ بِكَ وَأَنْتَ خَيْرُ مَنْزُولٍ بِهِ، اَللّٰهُمَّ أَوْسِعْ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَاغْفِرْ لَهُ ذَنْبَهُ، فَإِنَّا لَا نَعْلَمُ مِنْهُ إِلَّا خَيْرًا وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ» ”اے اللہ! یہ تیرا بندہ ہے اور تیرے بندے کا بیٹا ہے، تیرا مہمان بنا ہے اور تو بہترین مہمان نوازی کرنے والا ہے۔ اے اللہ! اس کی قبر کو کشادہ کر اور اس کے گناہ معاف کر، ہم نہیں جانتے اس کی طرف مگر نیکی ہی اور تو زیادہ جانتا ہے۔“