حدیث نمبر: 6950
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ أَبِي يَحْيَى النَّخَعِيِّ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى ابْنِ الْمُكَفَّفِ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا، ثُمَّ أَتَى قَبْرَهَ، فَقَالَ: " اللهُمَّ عَبْدُكَ وَوَلَدُ عَبْدِكَ نَزَلَ بِكَ وَأَنْتَ خَيْرُ مَنْزُولٍ بِهِ، اللهُمَّ وَسِّعْ لَهُ مُدْخَلَهُ، وَاغْفِرْ لَهُ ذَنْبَهُ فَإِنَّا لَا نَعْلَمُ بِهِ إِلَّا خَيْرًا، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ ".
حافظ ثناء اللہ

عمیر بن سعید فرماتے ہیں: میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے ابن مکفف کا جنازہ پڑھا اور انہوں نے چار تکبیرات کہیں، پھر اس کی قبر پر آئے اور کہا: «اَللّٰهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ، نَزَلَ بِكَ وَأَنْتَ خَيْرُ مَنْزُولٍ بِهِ، اَللّٰهُمَّ أَوْسِعْ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَاغْفِرْ لَهُ ذَنْبَهُ، فَإِنَّا لَا نَعْلَمُ مِنْهُ إِلَّا خَيْرًا وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ» ”اے اللہ! یہ تیرا بندہ ہے اور تیرے بندے کا بیٹا ہے، تیرا مہمان بنا ہے اور تو بہترین مہمان نوازی کرنے والا ہے۔ اے اللہ! اس کی قبر کو کشادہ کر اور اس کے گناہ معاف کر، ہم نہیں جانتے اس کی طرف مگر نیکی ہی اور تو زیادہ جانتا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6950
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابن جعد»