السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يستدل به على أن أكثر الصحابة اجتمعوا على أربع ورأى بعضهم الزيادة منسوخة باب: اس بات کے دلائل کا بیان کہ اکثر صحابہ کرام چار تکبیروں پر متفق ہو گئے تھے اور ان میں سے بعض نے اس پر اضافے کو منسوخ سمجھا ہے
حدیث نمبر: 6952
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا رَزِينُ بَيَّاعُ الرُّمَّانِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: صَلَّى ابْنُ عُمَرَ عَلَى زَيْدِ بْنِ عُمَرَ، وَأُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عَلِيٍّ، فَجَعَلَ الرَّجُلَ مِمَّا يَلِي الْإِمَامَ، وَالْمَرْأَةَ مِنْ خَلْفِهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِمَا أَرْبَعًا وَخَلْفَهُ ابْنُ الْحَنَفِيَّةِ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَمِمَّنْ رُوِّينَا عَنْهُ مِنَ الصَّحَابَةِ أَنَّهُ كَبَّرَ أَرْبَعًا، عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَالْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ.حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے زید بن عمر اور اس کی ماں کا جنازہ پڑھا تو آدمی کو امام کے قریب رکھا اور عورت کو اس کے پیچھے اور ان پر چار تکبیرات کہیں اور ان کے پیچھے ابن حنفیہ رحمہ اللہ، حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی تھے۔
اور صحابہ سے منقول ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، براء بن عازب رضی اللہ عنہما، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بھی چار تکبیرات کہیں۔