السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يستدل به على أن أكثر الصحابة اجتمعوا على أربع ورأى بعضهم الزيادة منسوخة باب: اس بات کے دلائل کا بیان کہ اکثر صحابہ کرام چار تکبیروں پر متفق ہو گئے تھے اور ان میں سے بعض نے اس پر اضافے کو منسوخ سمجھا ہے
حدیث نمبر: 6949
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَاذِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيَّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى زَيْنَبَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ أَرْبَعًا، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُدْخِلُهَا قَبْرَهَا، وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعْجِبُهُ أَنْ يُدْخِلَهَا قَبْرَهَا، فَأَرْسَلْنَ إِلَيْهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُنَّ: يُدْخِلُهَا قَبْرَهَا مَنْ كَانَ يَرَاهَا فِي حَيَاتِهَا قَالَ: صَدَقْنَ ".حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی ﷺ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کا جنازہ پڑھا تو انہوں نے چار تکبیرات پڑھیں، پھر انہوں نے آپ ﷺ کی بیویوں کی طرف پیغام بھیجا کہ انہیں قبر میں داخل کون کرے گا؟ اور عمر رضی اللہ عنہ پسند کرتے تھے کہ وہ انہیں قبر میں داخل کریں، سو انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ جس نے انہیں زندہ حالت میں دیکھا ہے وہ قبر میں داخل کرے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: انہوں نے سچ کہا۔