السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يستدل به على أن أكثر الصحابة اجتمعوا على أربع ورأى بعضهم الزيادة منسوخة باب: اس بات کے دلائل کا بیان کہ اکثر صحابہ کرام چار تکبیروں پر متفق ہو گئے تھے اور ان میں سے بعض نے اس پر اضافے کو منسوخ سمجھا ہے
حدیث نمبر: 6948
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ أَبُو مُكْرَمٍ الْهِلَالِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " آخِرُ جِنَازَةٍ صَلَّى عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا " تَفَرَّدَ بِهِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُمَرَ الْخَزَّازُ عَنْ عِكْرِمَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا اللَّفْظُ مِنْ وُجُوهٍ أُخَرَ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ إِلَّا أَنَّ اجْتِمَاعَ أَكْثَرِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ عَلَى الْأَرْبَعِ كَالدَّلِيلِ عَلَى ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آخری جنازہ جو آپ ﷺ نے پڑھا، اس میں چار تکبیرات کہیں۔
اسے عکرمہ سے نقل کرنے میں نضر بن عبد الرحمن ابو عمر خزاز منفرد ہیں اور وہ ضعیف ہیں۔ یہ الفاظ دوسری سندوں سے بھی مروی ہیں جو سب ضعیف ہیں، البتہ اکثر صحابہ رضی اللہ عنہم کا چار تکبیرات پر جمع ہونا اس کی دلیل کی طرح ہے۔ واللہ اعلم۔