السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: عدد التكبير في صلاة الجنازة باب: نماز جنازہ میں تکبیروں کی تعداد کا بیان
حدیث نمبر: 6938
وَرَوَاهُ أَيْضًا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالُوا قَدْ رَأَيْنَا ذَلِكَ، قَالَ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا، ثُمَّ يَمْكُثُ مَا شَاءَ اللهُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ، فَذَكَرَهُ فِي قِصَّةٍ ذَكَرَهَا عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى.حافظ ثناء اللہ
ابراہیم ہجری رحمہ اللہ نے بھی سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے انہی معانی میں حدیث بیان کی، سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا: لوگوں نے کہا: ہم نے یہ دیکھا ہے۔ انہوں نے فرمایا: میں ایسا کرنے والا نہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ چار تکبیرات کہا کرتے تھے، پھر جس قدر اللہ چاہتا آپ ٹھہرے رہتے۔
جعفر بن عون فرماتے ہیں: مجھے ابراہیم ہجری نے خبر دی اور انہوں نے سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے ایک قصے میں اس حدیث کا تذکرہ کیا۔