السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: عدد التكبير في صلاة الجنازة باب: نماز جنازہ میں تکبیروں کی تعداد کا بیان
حدیث نمبر: 6937
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: " شَهِدْتُهُ وَكَبَّرَ عَلَى جِنَازَةٍ أَرْبَعًا، ثُمَّ قَامَ سَاعَةً، يَعْنِي يَدْعُو، ثُمَّ قَالَ: أَتَرَوْنِي كُنْتُ أُكَبِّرُ خَمْسًا؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں جنازے میں حاضر ہوا تو انہوں نے جنازے پر چار تکبیرات کہیں۔ پھر کچھ دیر ٹھہرے اور دعا کی اور فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے، میں پانچ تکبیرات کہنا چاہتا ہوں؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں، بیشک رسول اللہ ﷺ چار تکبیرات کہتے تھے۔“
ابراہیم ہجری رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے انہی معانی میں حدیث بیان کی، سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا: ہم نے یہ دیکھا، لیکن میں ایسا نہیں کہ نہ کروں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ چار تکبیرات کہا کرتے تھے، پھر جس قدر اللہ چاہتے آپ ٹھہرے رہتے۔