السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: جنائز الرجال والنساء إذا اجتمعت باب: جب مردوں اور عورتوں کے جنازے اکٹھے ہو جائیں تو اس کا بیان
حدیث نمبر: 6921
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى: أَنَّ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، فِي الطَّاعُونِ كَانَ بِالشَّامِ مَاتَ فِيهِ بَشَرٌ كَثِيرٌ فَكَانَ يُصَلِّي عَلَى جَنَائِزِ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ جَمِيعًا، الرِّجَالُ مِمَّا يَلِيهِ وَالنِّسَاءُ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ وَيَجْعَلُ رُءُوسَهُنَّ إِلَى رُكْبَتَيِ الرِّجَالِ.حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن موسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب طاعون کی وبا پھیلی تو واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ شام میں تھے اور وہاں بہت سے لوگ فوت ہوئے تو وہ مردوں اور عورتوں کی اکٹھی نمازِ جنازہ پڑھاتے۔ مرد ان کے قریب ہوتے اور عورتیں قبلے کے قریب اور ان عورتوں کے سروں کو مردوں کے گھٹنوں کے برابر کرتے۔