السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: جنائز الرجال والنساء إذا اجتمعت باب: جب مردوں اور عورتوں کے جنازے اکٹھے ہو جائیں تو اس کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ صُبَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمَّارٌ، مَوْلَى الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ: " أَنَّهُ شَهِدَ جِنَازَةَ أُمِّ كُلْثُومٍ وَابْنِهَا، فَجَعَلَ الْغُلَامَ مِمَّا يَلِي الْإِمَامَ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ وَفِي الْقَوْمِ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ، وَأَبُو قَتَادَةَ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالُوا: هَذِهِ السُّنَّةُ "، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ دُونَ كَيْفِيَّةِ الْوَضْعِ بِنَحْوِهِ وَذَكَرَ أَنَّ الْإِمَامَ كَانَ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: وَكَانَ فِي الْقَوْمِ الْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَابْنُ عُمَرَ وَنَحْوٌ مِنْ ثَمَانِينَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَاهُ الشَّعْبِيُّ فَذَكَرَ كَيْفِيَّةَ الْوَضْعِ بِنَحْوِهِ وَذَكَرَ أَنَّ الْإِمَامَ كَانَ ابْنَ عُمَرَ وَلَمْ يَذْكُرِ السُّؤَالَ، قَالَ: وَخَلْفَهُ ابْنُ الْحَنَفِيَّةِ، وَالْحُسَيْنُ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، وَفِي رِوَايَةٍ: وَعَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ.حارث بن نوفل کے غلام عمار نے بیان کیا کہ وہ ام کلثوم اور ان کے بیٹے کے جنازے میں گیا تو بچے کو امام کے قریب رکھا گیا، میں نے اسے ناپسند کیا اور قوم میں ابن عباس رضی اللہ عنہما، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سعید رضی اللہ عنہ اور ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے تو انہوں نے کہا: ”یہ سنت ہے۔“
حماد بن سلمہ نے عمار بن ابو عمار سے رکھنے کی کیفیت اس کے مخالف بیان کی ہے اور وہ فرماتے ہیں: تب قوم میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ایسے ہی اسی (80) کے قریب اصحابِ محمد ﷺ تھے، مگر شعبی رحمہ اللہ نے ان کے رکھے جانے کی وہی کیفیت بیان کی ہے اور یہ بھی کہ امامت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کی۔