السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الجماعة يصلون على الجنازة أفذاذا باب: جماعت کے لوگوں کا جنازے پر الگ الگ نماز پڑھنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ، عَنْ أَبِيهِ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، قَالَ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَاتَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَقِيلَ لَهُ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " نَعَمْ " فَعَلِمُوا أَنَّهُ كَمَا قَالَ قِيلَ: وَيُصَلَّى عَلَيْهِ وَكَيْفَ يُصَلَّى عَلَيْهِ، قَالَ: " يَجِيئُونَ عُصْبًا عُصْبًا فَيُصَلُّونَ " فَعَلِمُوا أَنَّهُ كَمَا قَالَ، فَقَالُوا: هَلْ يُدْفَنُ وَأَيْنَ؟ فَقَالَ " حَيْثُ قَبَضَ اللهُ رُوحَهَ فَإِنَّهُ لَمْ يَقْبِضِ اللهُ رُوحَهَ إِلَّا فِي مَكَانٍ طَيِّبٍ " فَعَلِمُوا أَنَّهُ كَمَا قَالَ.سیدنا سالم بن عبید رضی اللہ عنہ جو اصحابِ صفہ میں سے تھے، بیان فرماتے ہیں کہ جب آپ ﷺ وفات پا گئے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، پھر نکلے تو کہا گیا: کیا رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ تو سب نے یقین کر لیا کہ آپ ﷺ وفات پا گئے ہیں۔ پھر کہا گیا: آپ ﷺ کا جنازہ کیسے پڑھائیں گے؟ انہوں نے کہا: ”تھوڑے تھوڑے لوگ داخل ہوں گے اور درود پڑھیں گے۔“ اور لوگوں نے وہی جانا جو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا، پھر انہوں نے پوچھا: کیا دفن کیا جائے گا اور کب دفن کیا جائے گا؟ تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ نے جہاں ان کی روح قبض کی، اسی مکان میں دفن کیا جائے گا اور اللہ روح کو پاکیزہ جگہ میں ہی نکالتے ہیں۔“ تو لوگوں نے جان لیا کہ بات ایسے ہی ہے جیسے وہ فرما رہے ہیں۔